WE News:
2026-07-24@01:45:16 GMT

صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟

وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا عسکری ہدف کون ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد پہلا پیر، تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی یا اضافہ؟

ہفتے کو وینزویلا میں ہونے والی بڑے پیمانے کی امریکی فوجی کارروائی کے بعد خطے میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

میڈورو کو امریکا کی ایک عدالت میں پیش کیا جارہا ہے جہاں ان پر نارکو دہشتگردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی استغاثہ کے مطابق میڈورو پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑے منشیات کارٹلز، جن میں سینالوا کارٹیل اور ٹرین ڈی اراگوا گینگ شامل ہیں، کی معاونت کی۔ علاوہ ازیں ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی کی اور صدارتی سہولیات کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے دیا۔

امریکی حکام کے مطابق اس کامیاب فوجی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے دیگر ممالک کے خلاف بھی سخت اقدامات کے اشارے دیے ہیں۔

کیوبا، گرنے کے قریب

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کیوبا کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیے: وینزویلا پر دوسرا امریکی حملہ ممکن ہے، صدر ٹرمپ کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کو آمدن کا بڑا ذریعہ وینزویلا کا تیل تھا جو اب بند ہو چکا ہے اور ملک گرنے کے قریب ہے۔

امریکی فوجی کارروائی کے دوران متعدد کیوبن شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کولمبیا کو وارننگ

کولمبیا کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ملک ایک ایسے شخص کے زیرِ اقتدار ہے جو منشیات کی پیداوار اور فروخت میں ملوث ہے۔

انہوں نے بالواسطہ طور پر صدر گوستاوو پیٹرو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس کا مطلب کولمبیا کے خلاف امریکی کارروائی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ خیال مجھے اچھا لگتا ہے۔

اس بیان پر کولمبیا کے صدر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خلاف الزامات لگانا بند کریں۔

گرین لینڈ پر نظر

صدر ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آئے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دفاعی ضروریات کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔

گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت، معدنی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ ماضی میں بھی اس علاقے کو امریکا میں شامل کرنے کی بات کر چکے ہیں۔

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ڈینش خودمختار علاقے پر کسی قسم کا حق حاصل نہیں۔

وینزویلا پر مزید دباؤ

صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے رودریگز کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی مطالبات پر عمل نہ کیا تو انہیں میڈورو سے بھی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

میڈورو کی گرفتاری کے بعد ڈیلسے رودریگز پیر کو صدر کا حلف اٹھانے والی ہیں۔

مزید پڑھیے: امریکی کارروائی میں گرفتار وینزویلا کے صدر مادورو نیویارک جیل منتقل

ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عبوری دور میں امریکا وینزویلا کے معاملات سنبھالے گا اور تیل کی پیداوار بحال کرے گا جبکہ نئی قیادت سے مکمل تعاون کا مطالبہ کیا۔

میکسیکو میں امریکی فوج؟

صدر ٹرمپ نے میکسیکو میں بھی امریکی فوج تعینات کرنے کے امکان کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ منشیات کارٹلز اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ میکسیکو اکیلا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اگرچہ انہوں نے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام کی شخصیت کی تعریف بھی کی۔

عالمی ردعمل

وینزویلا میں امریکی حملوں پر برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یوراگوئے اور اسپین سمیت کئی ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں، خصوصاً طاقت کے استعمال کی ممانعت، کی خلاف ورزی ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے لیے سنگِ مرمر کی خریداری اور وینزویلا پر حملہ، ٹرمپ کی چھٹی کیسے گزری؟

صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد یہ سوال برقرار ہے کہ آیا امریکہ واقعی ان دھمکیوں پر عمل کرے گا یا ان ممالک کو دباؤ کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر جھکنے پر مجبور کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈونلڈ ٹرمپ صدر وینزویلا مادورو وینزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ صدر وینزویلا مادورو وینزویلا وینزویلا پر گرین لینڈ انہوں نے کے بعد کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل