کولمبیا کے صدر کا ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد سخت ردعمل، مسلح افواج کو ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبیا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ملک کی مسلح افواج کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
صدر پیٹرو نے پبلک فورس کو متنبہ کیا کہ جو بھی افسر یا اہلکار کولمبیا کے قومی پرچم اور ملکی مفادات کو ترجیح نہیں دے گا، اسے فورس کا حصہ نہیں رہنا چاہیے، آئین کے مطابق پبلک فورس ملکی سلامتی، عوامی خودمختاری اور قومی دفاع کی ذمہ دار ہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی دباؤ یا مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور کولمبیا کے حوالے سے منشیات کے الزامات کو بھی دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام کسی بھی عدالت کے ریکارڈ میں شامل نہیں اور ان کی بدنامی کی کوشش بند کی جائے۔
صدر پیٹرو نے واضح کیا کہ کولمبیا اپنے فیصلے خود کرے گا اور کسی بھی بیرونی دھمکی یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، ٹرمپ نے وینزویلا پر کنٹرول کے بعد کولمبیا اور دیگر لاطینی امریکی ممالک کو بھی سخت اقدامات کی دھمکیاں دی ہیں، جس پر کولمبیا نے اپنے قومی دفاع کے حق کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کولمبیا کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔