Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:17:28 GMT

محسن نقوی کا شنگھائی اسپیشل پولیس فورس بیورو کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

محسن نقوی کا شنگھائی اسپیشل پولیس فورس بیورو کا دورہ

وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی اپنے چین کے دورے کے پہلے مرحلے میں شنگھائی پہنچے، جہاں انہوں نے شنگھائی خصوصی پولیس فورس بیورو کا دورہ کیا اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ چیف کمانڈنگ سینٹر کے سربراہ مسٹر ژیاو نے وزیر داخلہ کا خیرمقدم کیا اور شنگھائی خصوصی پولیس فورس کے دائرہ کار، فرائض اور کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران محسن نقوی نے فورس کے زیر استعمال بکتر بند گاڑیوں، بم ناکارہ بنانے والے یونٹ کے جدید آلات، جدید ہتھیاروں اور پانی کی توپوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر خصوصی فورس کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیتی نظام اور عملی مشقوں کے مظاہرے بھی پیش کیے گئے، جن میں مارشل آرٹس کے مظاہرے شامل تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ شنگھائی خصوصی پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا نظام اور اعلیٰ معیار کی تربیت قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اسلام آباد پولیس اور شنگھائی خصوصی پولیس فورس کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ دورے کے موقع پر وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا، انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ موجود تھے۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا، انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر داخلہ اسلام آباد

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات