سید علی خامنہ ای بارے جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
(انور عباس) پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایک بار پھر قابلِ نفرت دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے،دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک ایران کے سپریم لیڈر کے بارے میں جھوٹی، من گھڑت خبریں اور بے بنیاد دعوے پھیلا رہا ہے،میں ان جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو پوری قوت اور دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہوں۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستانی میڈیا پر ایرانی سپریم راہنماء سید علی خامنہ ای کے حوالے سے اسرائیلی پراپیگنڈا خبر کا نوٹس لیتے ہوئے ایکس پر بیان جاری کیا ہے ، جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر قابلِ نفرت دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے، دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک ایران کے سپریم لیڈر کے بارے میں جھوٹی، من گھڑت خبریں اور بے بنیاد دعوے پھیلا رہا ہے،میں ان جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو پوری قوت اور دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہوں، میں زور دیتا ہوں کہ ایسی غلط معلوماتی مہمات دشمن کی مایوسی کی علامت ہیں، یہ مہمات دشمن کی ان ناکامیوں کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہیں جنہیں وہ ایران کے بہادر فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران میدانِ جنگ میں حاصل نہ کر سکا، ایرانی فوجیوں اور کمانڈروں نے اپنے محبوب وطن کی مقدس سرزمین پر بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا،ایرانی فوجیوں اور کمانڈروں نے عزت و وقار کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کیا، انہوں نے۔عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کیا۔انہوں نے بیان میں کہا کہ ایرانی فوجیوں اور کمانڈروں نے ایران کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، یہ عظیم قربانیاں دینے والے شہداء اپنے وطن کی مٹی میں ہی آسودۂ خاک ہوئے، ایران کے دانشمند، دلیر اور ثابت قدم رہبر ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں، وہ عوام اور ملک کے چوکس سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہےکہ میں اسی تناظر میں، پاکستانی میڈیا اداروں اور صحافیوں سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع پر انحصار کریں،موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی، غلط معلومات اور اخلاقی بددیانتی عام ہو چکی ہے، لہذا اس دور میں معلومات کی تصدیق میں انتہائی احتیاط برتی جائے۔ایسی پیشہ ورانہ ذمہ داری پاکستانی صحافت اور میڈیا کے وقار، اعتماد اور ممتاز مقام کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم راہنماء سید علی خامنہ ای کی رائفل تھامے تصویر بھی جاری کر دی۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم پاکستانی میڈیا سید علی خامنہ نوٹس پاکستانی میڈیا سید علی خامنہ فوجیوں اور کمانڈروں ایرانی سفیر ایران کے
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔