Express News:
2026-07-24@07:14:18 GMT

ایران کا مظاہرین کو لاکھوں تومان الاؤنس دینے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

ایران میں مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف ملک بھر میں جاری شدید عوامی احتجاج پر حکومت نے یوٹرن لے لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مہنگائی کے خلاف احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی پر گامزن ایرانی حکومت نے اچانک مظاہرین کے لیے 10 لاکھ تومان کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان اُس وقت کیا گیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اب اگر مظاہرین کی ہلاکت ہوئی تو امریکا ایران پر بڑا حملہ کریں گے۔

جس کے بعد حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ہر فرد کو ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) فراہم کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ رقم آئندہ چار ماہ تک شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم نقد نہیں ہوگی بلکہ ایک خصوصی کریڈٹ کے طور پر دی جائے گی، جسے صرف مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے اور یہ سہولت تمام ایرانی شہریوں کو بلا امتیاز فراہم کی جائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی آبادی 8 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے جہاں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً 100 ڈالر جبکہ اوسط تنخواہ 200 ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔

ایران میں روزمرہ خریداری کے لیے زیادہ تر شہری نقد رقم کے بجائے موبائل فون اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگیاں کرتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی کرنسی نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ قدر کھو دی ہے جس کے باعث عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی اور ملک بھر میں بے چینی میں اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ ایران میں موجودہ احتجاجی لہر کا آغاز گزشتہ ہفتے مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور معاشی بدحالی کے خلاف ہوا۔

ابتدا میں مظاہرے چند بڑے شہروں تک محدود تھے، تاہم سرکاری اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اب یہ احتجاج کم از کم 40 شہروں تک پھیل چکا ہے۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی ایران کو اسی نوعیت کے معاشی احتجاج کا سامنا رہا ہے جن میں 2019 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور 2022 میں معاشی و سماجی مسائل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شامل ہیں۔

موجودہ احتجاج کو حالیہ برسوں کی سب سے وسیع عوامی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے خلاف

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی