ایران کا مظاہرین کو لاکھوں تومان الاؤنس دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ایران میں مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف ملک بھر میں جاری شدید عوامی احتجاج پر حکومت نے یوٹرن لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مہنگائی کے خلاف احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی پالیسی پر گامزن ایرانی حکومت نے اچانک مظاہرین کے لیے 10 لاکھ تومان کا اعلان کردیا۔
یہ اعلان اُس وقت کیا گیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اب اگر مظاہرین کی ہلاکت ہوئی تو امریکا ایران پر بڑا حملہ کریں گے۔
جس کے بعد حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ہر فرد کو ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) فراہم کرے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ رقم آئندہ چار ماہ تک شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم نقد نہیں ہوگی بلکہ ایک خصوصی کریڈٹ کے طور پر دی جائے گی، جسے صرف مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے اور یہ سہولت تمام ایرانی شہریوں کو بلا امتیاز فراہم کی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی آبادی 8 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے جہاں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً 100 ڈالر جبکہ اوسط تنخواہ 200 ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔
ایران میں روزمرہ خریداری کے لیے زیادہ تر شہری نقد رقم کے بجائے موبائل فون اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگیاں کرتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی کرنسی نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ قدر کھو دی ہے جس کے باعث عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی اور ملک بھر میں بے چینی میں اضافہ ہوا۔
یاد رہے کہ ایران میں موجودہ احتجاجی لہر کا آغاز گزشتہ ہفتے مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور معاشی بدحالی کے خلاف ہوا۔
ابتدا میں مظاہرے چند بڑے شہروں تک محدود تھے، تاہم سرکاری اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اب یہ احتجاج کم از کم 40 شہروں تک پھیل چکا ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
ماضی میں بھی ایران کو اسی نوعیت کے معاشی احتجاج کا سامنا رہا ہے جن میں 2019 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور 2022 میں معاشی و سماجی مسائل کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شامل ہیں۔
موجودہ احتجاج کو حالیہ برسوں کی سب سے وسیع عوامی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔