آزاد کشمیر میں ایک بار پھر احتجاج کی تیاریاں، وفاقی وزرا نے ایکشن کمیٹی کو بات چیت کی دعوت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے، لیکن کمیٹی کے اراکین کی طرف سے مذاکرات میں عدم شرکت افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے، تاہم طے شدہ میٹنگ میں کمیٹی کے ممبران شریک نہیں ہوئے۔
وزیر امور کشمیر امیر مقام نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، اس موقع پر وزیر خزانہ آزاد کشمیر چوہدری قاسم مجید، وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: وفاق اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان موبائل فون سروس کی بحالی سمیت 90 فیصد معاملات طے
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہاکہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک ماہ میں کئی کابینہ اجلاس کیے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کر دیں، اور سنگین نوعیت کی صرف 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین کو بحال کر دیا گیا اور لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے کام جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آزاد کشمیر میں کئی مسائل حل کیے جا چکے ہیں جیسے کہ میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ کی پالیسی کا نفاذ اور واٹر سپلائی سکیموں پر عملدرآمد۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی آزاد کشمیر کا دورہ کیا اور کشمیریوں کو یقین دہانی کروائی۔
انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے کے مطابق پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھیجا گیا ہے اور یو ایس ایف کے سی ای او کی تقرری کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی ہے اور سٹوڈنٹ یونین کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔
اس دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور عملدرآمد کے حوالے سے مکمل شفافیت رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک مستقل مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو عوامی مسائل اور معاہدے پر عملدرآمد کو مسلسل مانیٹر کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے احتجاج کے دوران اموات کے باوجود 177 ایف آئی آرز کو ختم کیا اور جوڈیشل کمیشن بنانے کی کارروائی شروع کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت مزید بہت ساری درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں جن میں سیلولر انٹرنیٹ سروسز اور زخمیوں اور شہداء کے ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں سیلولر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے اشتیاق احمد کو یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر تعینات کیا گیا ہے اور دیگر اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاہدے کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی کام ہو چکا ہے اور مظفرآباد میں اس حوالے سے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
ایکشن کمیٹی کے ممبران کی عدم شرکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایکشن کمیٹی نے بغیر کسی وجہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ عوام کے لیے ہیں اور ان کی فلاح کے لیے کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے دو اجلاس ہو چکے ہیں اور آج کا اجلاس بھی طے شدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی عدم شرکت سے عملدرآمد کے عمل میں سست روی آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے گھروں کا سامان جلادیا، اللہ نے ہماری جان بچائی، زخمی پولیس اہلکار نے سب کچھ بتادیا
واضح رہے کہ گزشتہ سال 29 ستمبر کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم پاکستان نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تین دن کے مذاکرات کے بعد 36 نکات پر معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد حکومت نے اس پر عملدرآمد کی کارروائی شروع کر دی تھی۔
اب جبکہ آزاد کشمیر میں دوبارہ احتجاج کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، وفاقی حکومت نے ایکشن کمیٹی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے اور حالات مزید بگڑنے سے بچ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاج کی تیاریاں آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتجاج کی تیاریاں عوامی ایکشن کمیٹی وی نیوز عوامی ایکشن کمیٹی انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے کہ آزاد کشمیر وفاقی وزیر معاہدے کے حکومت نے حوالے سے کے لیے ہے اور نے ایک
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔