۔72 شوگر ملز کو جرمانے،عدالت عظمیٰ کا 90 روز میں فیصلہ کرنےکا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے معاملے میں مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا کہ
ٹربیونل کیس سن کر 90 روز میں فیصلہ کرے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کی 3 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیے، کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔ مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے عدالت سے استدعا کی کہ آرڈر میں کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کردیتے ہیں۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے مسابقتی کمیشن میں 4 ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کو سنا، جس کے نتیجے میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر 2 ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر تھا، اس لیے مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار دیا گیا۔درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں معاملہ دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے کے خلاف اپیل عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی، جہاں چیف جسٹس سمیت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس شکیل احمد نے کیس کی سماعت کی ۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔ عدالت عظمی نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسابقتی کمیشن عدالت عظمی
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔