جنہیں ضمانت ملی وہ خوش نصیب ہیں لیکن اب جیل ہی میری زندگی ہے، عمر خالد
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پہلی نظر میں مقدمہ بنایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی فسادات کیس میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے ضمانت دینے سے انکار کے بعد عمر خالد نے کہا کہ اب جیل ہی ان کی زندگی ہے۔ عمر خالد کی دوست بانوجیوتسنا لہڑی نے پیر کو یہ معلومات شیئر کیں۔ تاہم بانوجیوتسنا نے کہا کہ عمر خالد کو خوشی ہے کہ کیس کے دیگر ملزمان کو ضمانت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے فروری 2020ء کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت پہلی نظر میں مقدمہ بنایا گیا ہے۔ تاہم بنچ نے کیس کے دیگر ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کی۔
بانوجیوتسنا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عمر خالد نے کہا "میں ان دیگر لوگوں کے لئے بہت خوش ہوں جنہیں ضمانت ملی ہے، مجھے راحت ملی ہے، میں نے جواب دیا، میں کل اس سے ملنے آؤں گا"۔ عمر خالد نے کہا "ہاں، اب یہ زندگی ہے"۔ شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020ء کے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر ٹرمپ کارڈ نہیں ہے جو خود بخود قانونی تحفظات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دیگر پانچ ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کو مسترد کئے جانے کے فیصلے کو ملزمان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر خالد اور شرجیل امام کہا کہ عمر خالد سپریم کورٹ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی
مزید :