مقدمہ منتقلی کیس: سپریم کورٹ نے سیشن جج قصور کا فیصلہ بحال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے اختیارات سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے سیشن جج قصور کی جانب سے مقدمہ منتقل کرنے کے فیصلے کو بحال کر دیا۔
مقدمے کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: سیشن ججز کے اختیارات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا
دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ آیا سیشن جج کو مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ نہیں۔
جس پر وکیلِ مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 526 کے تحت سیشن جج چارج فریم کرنے سے پہلے مقدمہ ٹرانسفر کر سکتا ہے، جبکہ دفعہ 528 کے تحت فیصلہ سنانے سے قبل بھی مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار موجود ہے۔
وکیلِ مدعی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیشن جج کے فیصلے پر صرف چند اعتراضات ہیں اور مقدمہ 25 سے 30 کلومیٹر دور دوسرے مجسٹریٹ کے پاس منتقل کیا گیا ہے، جہاں تک رسائی مشکل ہے کیونکہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ منتقل کرنے سے قبل دونوں فریقین کی رائے لینا ضروری تھا۔
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے طنزیہ انداز میں ریمارکس دیے کہ اب کیا ہم اس مقدمے میں حکومت کو سڑک بنانے کا کہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ منتقل کیا تھا، جس کے خلاف مدعی مقدمہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سیشن جج کے حکم کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سیشن جج کا حکم بحال کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرانسفر جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ سیشن جج فوجداری قصور لاہور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ فوجداری لاہور ہائیکورٹ جسٹس جمال مندوخیل لاہور ہائیکورٹ سپریم کورٹ نے کا حکم
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔