سپریم کورٹ نے سیشن ججز کے اختیارات سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے سیشن جج قصور کی جانب سے مقدمہ منتقل کرنے کے فیصلے کو بحال کر دیا۔

مقدمے کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: سیشن ججز کے اختیارات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا

دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ آیا سیشن جج کو مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ نہیں۔

جس پر وکیلِ مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 526 کے تحت سیشن جج چارج فریم کرنے سے پہلے مقدمہ ٹرانسفر کر سکتا ہے، جبکہ دفعہ 528 کے تحت فیصلہ سنانے سے قبل بھی مقدمہ منتقل کرنے کا اختیار موجود ہے۔

وکیلِ مدعی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیشن جج کے فیصلے پر صرف چند اعتراضات ہیں اور مقدمہ 25 سے 30 کلومیٹر دور دوسرے مجسٹریٹ کے پاس منتقل کیا گیا ہے، جہاں تک رسائی مشکل ہے کیونکہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ منتقل کرنے سے قبل دونوں فریقین کی رائے لینا ضروری تھا۔

اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے طنزیہ انداز میں ریمارکس دیے کہ اب کیا ہم اس مقدمے میں حکومت کو سڑک بنانے کا کہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سیشن جج قصور نے ملزمان کی درخواست پر مقدمہ منتقل کیا تھا، جس کے خلاف مدعی مقدمہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے سیشن جج کے حکم کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس بھجوانے کا حکم دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سیشن جج کا حکم بحال کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرانسفر جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ سیشن جج فوجداری قصور لاہور ہائیکورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ فوجداری لاہور ہائیکورٹ جسٹس جمال مندوخیل لاہور ہائیکورٹ سپریم کورٹ نے کا حکم

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی