محکمہ موسمیات کی ملک میں شدید ترین سرد موسم کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
محکمہ موسمیات نے پاکستان میں شدید ترین سرد موسم کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسمبر سے فروری تک ملک کے موسم کے حوالے سے دستاویزات شدید سردی کی پیش گوئی کی تصدیق نہیں کر رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کےمطابق مشاہدہ شدہ موسمیاتی ڈیٹا پاکستان میں شدید ترین سرد موسم کے دعووں کی تردید کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سے قبل موسم سرما کےآغاز سے قبل سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر شدید اور غیرمعمولی سردی کے حوالے دعوے کیے گئے تھے، جوکہ گمراہ کن ثابت ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سرمائی موسمی پیش گوئی(دسمبر تا فروری)کسی بھی علاقائی و عالمی آب و ہوا کے اشارے ایسے کسی بھی سردموسم کی تصدیق نہیں کرتے، بالخصوص دسمبر2025کے دوران ریکارڈ ہونے والے حالات محکمہ موسمیات کےموسمی آوٹ لک سےمکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے مذکورہ موسمی آؤٹ لک عالمی ادارہ موسمیات کے تعاون سےعالمی آب ہوا کی پیش گوئی کے نظام کی بنیاد پر مرتب کی، جس کے آؤٹ لک میں ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے قدرے زیادہ جبکہ بارش معمول کے قریب یا معمول سے کم رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اب تک کے مشاہدات کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر بارش معمول سے کم رہی جبکہ مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش ریکارڈ کی گئی تاہم گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا۔
پی ایم ڈی کا کہنا ہےکہ جاری موسم سرما کی صورت حال اس کے پری سیزن موسمی نکتہ نظر سے مکمل مطابقت رکھتی ہے اور شدید یا غیرمعمولی سرد موسم کے دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں بنتی۔
محکمہ موسمیات نے عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم اور آب وہوا سے متعلق درست، بروقت اور سائنسی معلومات کےلیے صرف پی ایم ڈی کی آفیشل پیش گوئیوں اور رپورٹس پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات سےگریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی معمول سے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔