لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے شعبان کے چاند سے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم شعبان 1447 ہجری بروز بدھ 21 جنوری 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شعبان کا چاند 19 جنوری 2026 کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا، تاہم 19 جنوری کی شام کراچی سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر 17 سے 18 گھنٹے کے درمیان ہوگی جبکہ اتنی کم عمر میں چاند کا نظر آنا ممکن نہیں۔ رویت کے لیے چاند کی عمر کم از کم 19 گھنٹے سے زائد ہونا ضروری ہوتی ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 17 گھنٹے 40 منٹ ہوگی۔محکمے کے مطابق سندھ میں چاند غروبِ آفتاب کے بعد 32 سے 33 منٹ تک افق پر موجود رہے گا، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں یہ دورانیہ 30 سے 31 منٹ ہوگا۔ مطلع صاف یا جزوی ابر آلود ہونے کے باوجود رویت ممکن نہیں ہوگی۔محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ 29 رجب کو بھی ملک بھر میں چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی گئی ہے۔

بلوچستان میں مذہبی مقامات کی ترقی و بحالی حکومتی سرپرستی میں یقینی بنائی جائے گی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات میں چاند

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان