data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا کوئی سازگار ماحول موجود نہیں ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ضرور ہے، تاہم فی الوقت مذاکرات کی کوئی امید یا پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے، لیکن ان کی جماعت کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیا کہ آرٹیکل 17 یہ بھی بتاتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک کی سالمیت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق اس شق پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بعد الیکشن ایکٹ تشکیل دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی جماعت پر ریاست کی سالمیت کے خلاف ہونے کا الزام ہو تو اس کے لیے ٹھوس اور تفصیلی شواہد درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محض الزامات کافی نہیں ہوتے، بلکہ ایسے شواہد سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں پیش کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت مذاکرات کے لیے ماحول نہیں بنا رہی، اسی لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ پا رہی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر تحریک انصاف

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان