حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کا کوئی ماحول نہیں، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا کوئی سازگار ماحول موجود نہیں ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ضرور ہے، تاہم فی الوقت مذاکرات کی کوئی امید یا پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے، لیکن ان کی جماعت کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیا کہ آرٹیکل 17 یہ بھی بتاتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک کی سالمیت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق اس شق پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بعد الیکشن ایکٹ تشکیل دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی جماعت پر ریاست کی سالمیت کے خلاف ہونے کا الزام ہو تو اس کے لیے ٹھوس اور تفصیلی شواہد درکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محض الزامات کافی نہیں ہوتے، بلکہ ایسے شواہد سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں پیش کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت مذاکرات کے لیے ماحول نہیں بنا رہی، اسی لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ پا رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر تحریک انصاف
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب