شاہد رضا مبین بھائی تحریک کا قیمتی اثاثہ تھے‘عرفان احمد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے امیر عرفان احمد نے کہا ہے کہ ” شاہد رضا مبین بھائی تحریک کا قیمتی اثاثہ تھے۔ بحیثیت یوسی 2 نارتھ کراچی ٹاؤن اور پبلک ایڈ کمیٹی گڈاپ کے سابق چیئرمین کی حیثیت سے اور مرحوم کی تحریک کے لیے دیگر خدمات کو بھی تادیر یاد رکھا جائیگا انکے انتقال سے ہم ایک بہترین سرگرم دیرینہ رکن سے محروم ہوگئے ہیں، انکے بچوں کے لیے باپ سے جدائی بلاشبہ بڑا صدمہ ہے لیکن موت برحق ہے دکھ کی اس گھڑی میں ہمیں صبر سے کام لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور سب لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ، انکی حسنات اور اقامت دین کے لیے کی گئی سعی و جدوجہد قبول فرمائے، انکی اولاد کو انکا صدقہ جاریہ بنائے آمین”۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی ضلع گڈاپ عرفان احمد نے مرحوم شاہد رضا مبین جنکی عمر اسی برس تھی وہ سابق چیئرمین پبلک ایڈ کمیٹی ضلع گڈاپ اور سابق یوسی2 نارتھ کراچی ٹاؤن کے ناظم رہے ہیں۔ ان کے انتقال پر انکی رہائشگاہ پر ان کے بیٹے عاطف مبین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کیا۔ دیرینہ رکن جماعت اسلامی شاہد رضا مبین کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب امیر جماعت اسلامی ضلع گڈاپ عرفان احمد نے جامع مسجد ابو حذیفہ گلشن معمار سیکٹر زیڈ-4 میں پڑھائی۔ نماز جنازہ میں نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ اور ٹاؤن ناظم نارتھ کراچی ٹاؤن محمد یوسف، امیر جماعت اسلامی‘ ضلع شمالی طارق مجتبیٰ، جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع گڈاپ ابوالخیر ملک،نائب امیر ضلع گڈاپ خالد صدیقی، صدر پبلک ایڈ کمیٹی ضلع گڈاپ ابو الضیا پرویز اور دیگر ذمہ داران عزیز واقارب اور احباب و علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ضلع گڈاپ امیر جماعت اسلامی شاہد رضا مبین عرفان احمد
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔