لاہور (خصوصی نامہ نگار) جامعہ اشرفیہ لاہور کے سرپرست اعلیٰ و سابق مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی نماز جنازہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں ان کے بیٹے صاحبزادہ مولانا حافظ زبیر حسن نے پڑھائی جس میں نامور دینی و مذہبی راہنما وں اور سیاسی شخصیات جس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، مولانا عبدالحق ثانی، حافظ طاہر محمود اشرفی، مولانا سید عبدالخبیر آزاد، خواجہ احمد حسان، مولانا انس اعظم، مولانا محمد امجد خان، مولاناعبدالر وف فاروقی، مولانا پیر اسد اللہ فاروق نقشبندی، صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی، مفتی محمد جامع الرشید کراچی، مولانا حکیم مظہر شاہ، خواجہ اعجاز احمد سکا، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق، لیاقت بلوچ، مجیب الرحمن شامی، عمر شامی، نوید چوہدری، بلال یاسین، چوہدری اختر رسول، میاں محمد نعمان ایم این اے، مولانا مفتی احمد علی ثانی، سید توصیف شاہ، مولانا عبدالمالک، ڈاکٹر فرید پراچہ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ، مولانا راشد الحق حقانی، مولانا عرفان الحق، مولانا سید فہیم الحسن تھانوی، حافظ حسین احمد، مولانا نعمان حامد، صاحبزادہ حافظ عمیر عبدالہادی، پیر حافظ محمد ابراہیم نقشبندی، علامہ زبیر عابد، قاری وقار چترالی، ڈاکٹر فیاض رانجھا، مولانا مسعود قاسم قاسمی، تنظیم اسلامی کے امیر مولانا شجاع الدین، جاوید قصوری، مولانا سید قطب، پروفیسر ڈاکٹر مسعود گوندل اورجامعہ اشرفیہ لاہوراور دیگر دینی مدارس کے علماءو طلباءسمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مولانا حافظ فضل الرحیم دس سال جامعہ اشرفیہ لاہور میں مہتمم کے منصب پر فائز رہے۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے صدر، پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین رابطہ عالم اسلامی کے رکن، متحدہ علماءبورڈ کے چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر، زکٰوة و عشر کمیٹی کے ممبر اور دیگر عہدوں پر کام کرتے ہوئے اسلام، ملک و قوم اور انسانیت کی خدمت کی۔ مرحوم کو مقامی قبرستان شیرشاہ اچھرہ لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جامعہ اشرفیہ لاہور

پڑھیں:

دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔

دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔

اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔

دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔

اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی