جنگ اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے، رویوں پر نظرثانی ضروری ہے، امیر حیدر ہوتی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسکرین گرایب
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ جنگ اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے، رویوں پر نظرثانی ضروری ہے۔
مردان میں جلسے سے خطاب میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا جل رہا ہے اور سہیل آفریدی پنجاب اور سندھ فتح کرنےکی باتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پہلے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی آگ بجھائیں، بتایا جائے کہ پی ٹی آئی ہر بار احتجاج کا ’ٹھیکہ‘ پختونوں کو کیوں دیتی ہے؟
اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ پرویز الہٰی موجود ہیں، بتایا جائے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو پنجاب میں احتجاج کی کیا ضرورت ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ جنگ اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے، رویوں پر نظرثانی ضروری ہے، موجودہ حالات میں تمام جماعتوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، پی ٹی آئی نے سیاست سے برداشت اور رواداری ختم کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ضروری ہے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔