آئی ایم ایف کی کڑی شرط: شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے جامع پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت گندم کے بعد چینی کا شعبہ بھی مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع پلان تیار کیا گیا ہے۔ مجوزہ پلان کے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کے لیے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہوگی، وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے جبکہ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں بلکہ مارکیٹ کرے گی۔ مجوزہ پلان کے مطابق حکومت چینی کی برآمد پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ شوگر ملز کے لیے ایکسپورٹ کوٹہ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ شوگر ملز خام چینی باہر سے منگوا کر ری ایکسپورٹ بھی کر سکیں گی جبکہ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پراسیسنگ کی مکمل آزادی ہوگی۔ دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نے چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شوگر سیکٹر کو ڈی ختم کرنے کی کی تجویز ہے شوگر ملز کے لیے
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔