اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکورٹی کیلیے خصوصی یونٹ قائم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے یہ بات چین کے پبلک سیکورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی وزارتِ عوامی سیکورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں محسن نقوی کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کی تیاری پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کی توسیع بھی شامل ہے۔ ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔ ملاقات میں دونوں وزرا نے پولیس اور حفاظتی اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔ محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر ژیاؤ ہونگ نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں دونوں فریقین نے سائبر کرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے خلاف اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار تعاون کا رشتہ ہے اور انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ ورکنگ گروپ کی میٹنگ ہوگی اور سال میں ایک بار وزارتی سطح کی ملاقات ہوگی۔ محسن نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔ ژیاؤ ہونگ نے بھی پاکستان میں ہر سطح پر تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں، انہوں نے محسن نقوی اور ان کے وفد کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے کی میزبانی بھی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں چینی شہریوں کی سیکورٹی دہشت گردی کے خلاف کہا کہ پاکستان محسن نقوی نے اسلام ا باد سیکورٹی کے انہوں نے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔