Jasarat News:
2026-06-03@03:37:53 GMT

اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-03-6
ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ تارا ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگ ِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر کرسی پر ترجمے کے ہیڈ سیٹ ترتیب سے رکھے تھے۔ دنیا بھر سے سفارت کار، دانشور، سیاسی و سماجی کارکن اور صحافی ہال میں موجود تھے۔ اس کانفرنس کے ایک سیشن میں جب نائل البرغوثی نے بولنا شروع کیا، تو چند لمحوں میں ہی اوپر جھلملاتے فانوس غیر متعلق محسوس ہونے لگے۔ چند ہی لمحوں میں ہال کسی عالی شان مقام کے بجائے ایک بند، بھاری اور دم گھونٹ دینے والی جگہ بن گیا، جیسے دیواروں نے دہائیوں کا دکھ اپنے اندر جذب کر لیا ہو۔ میرے پیچھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ چند قطار پیچھے بیٹھی ایک عورت نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا، اس کے کندھے ہچکیاں لے رہے تھے۔ دروازے کے قریب بیٹھا ایک بوڑھا شخص بار بار اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، شاید ان آنسوئوں پر خود حیران اور شرمندہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہال کے پچھلے حصے سے دبی دبی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ بے اختیار آوازیں جو اْس وقت نکلتی ہیں جب غم وقار کے خیال سے بڑا ہو جاتا ہے۔ کوئی ایک چہرہ بھی بے تاثر نہ تھا۔ برغوثی بغیر کسی نوٹس کے بول رہے تھے۔ ان کی آواز بلند نہیں تھی۔ نہ کوئی ڈراما، نہ الزام، نہ فریاد تھی۔ وہ انتہائی سکون اور وضاحت کے ساتھ اسرائیلی جیل میں ان کے گزرے پینتالیس برسوں کی دردناک کہانی سنا رہے تھے۔ چار دہائیو ں کی تاریکی کے بعد البرغوثی نے روشنی میں قدم رکھا تھا۔ جب وہ خاموش ہوئے تو پورا ہال ایک جسم بن کر کھڑا ہو گیا۔ فوراً تالیاں نہیں بجیں۔ پہلے گہری اور باوقار خاموشی آئی۔ پھر تالیوں کی آواز، ابتدا میں ہچکچاہٹ کے ساتھ، پھر بڑھتی ہوئی، پھیلتی ہوئی، پورے ہال کو بھر دینے والی جوش سے بھری آوازیں ابھریں۔ لوگ دیر تک کھڑے رہے۔

برغوثی کے اسٹیج سے نیچے اُترتے ہی لوگ ان کو چھو کر جیسے یقین کر رہے تھے کہ کیا یہ شخص واقعی گوشت پوست کا انسان ہے، جو اسرائیل کی جیل سے زندہ باہر نکل آیا ہے۔ ہال کے باہر صحافیوں کا ہجوم ان کی طرف مائک و کیمرے لیکر لپک رہا تھا۔ ان پر عربی، ترکی اور انگریزی میں سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ وہ سب کے جواب تحمل سے دے رہے تھے، نہ جھنجھلاہٹ، نہ عجلت، جیسے وقت، جس نے کبھی انہیں بے رحمی سے کچلا تھا، اب ان پر حکم نہیں رکھتا تھا۔ جب ہجوم کچھ کم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے پوری توجہ سے سنا، ان کی نگاہ ٹھیری ہوئی تھی، ویسی ہی جیسی قیدی سیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اپنے جیل کے چند واقعات بتائے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ یوں ہماری گفتگو شروع ہوئی۔ قدآور اور دبلے پتلے نائل البرغوثی کی عمر 67 برس ہے۔ ان کا جسم محرومی کی طویل چھاپ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بال مکمل سفید ہو چکے ہیں، چہرے پر گہری لکیریں ہیں، جو صرف عمر کی نہیں بلکہ دہائیوں کے ضبط اور برداشت کی گواہ ہیں۔ ان کی آنکھیں تیز اور چوکنی ہیں، ان میں ایک پْرسکون شدت بے

چین کر دیتی ہے۔ ان کا لباس سادہ تھا، جسم پر ڈھیلا لٹکتا ہوا، ایک ایسے وجود پر جو برسوں کی قید سے کمزور ہو چکا ہو۔ چہرہ لکیروں سے بھرا تھا۔ یہ لکیریں صرف عمر کی نہیں تھیں بلکہ برداشت، ضبط اور طویل خاموشیوں کی علامت تھیں۔ میں نے جب ان سے زندان میں گزری زندگی کے بار ے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی پینتالیس سال کی قید کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ایک دو گھنٹے کافی نہیں۔ کتابیں بھی کافی نہیں ہوں گی‘‘۔ اسٹیج سے جب ان کا تعارف کرایا گیا تھا، تو ا ن کو فلسطینی قیدیوں کا ڈین یا عمید بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لقب سے بے چین ہیں جو اکثر ان کے نام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے‘‘۔ مجھے اس پر فخر نہیں، ’’انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا‘‘۔ یہ مجھے عزت نہیں دیتا۔ کسی فلسطینی کو چند دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پینتالیس سال؟ یہ لقب خود ایک الزام ہے‘‘۔ تھوڑی دیر رک کر انہوں نے کہا، ’’میری پہچان سب سے پرانا قیدی نہیں بلکہ میں ایک فلسطینی مجاہد ہوں۔ ایک ایسا انسان جو اپنے حق کے لیے لڑا ہے‘‘۔

برغوثی 23 اکتوبر 1957 کو مغربی کنارہ کے فلسطینی شہر رملہ کے شمال میں واقع گائوں کوبر میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔ زمین اور زیتون کے درختوں کے ساتھ ان کے خاندان کا گہرا تعلق تھا، جو روزی بھی تھے اور شناخت بھی۔ مزاحمت ان کے خاندانی ورثے میں شامل تھی۔ ان کے والد کو برطانوی دورِ انتداب میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک چچا 1936 کی عظیم عرب مزاحمت میں مارے گئے۔ وہ دس برس کے تھے جب جون 1967 میں اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔ انہیں یاد ہے کہ کیسے فوجی کوبر میں داخل ہوئے۔ وہ دھماکے کر رہے تھے اور بچے ان پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دن ان کے اندر کچھ بس گیا، جو پھر کبھی نہیں نکلا۔ جوانی میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ پہلی گرفتاری دسمبر 1977 میں ہوئی۔ تین ماہ قید کے بعد رہائی ملی۔ وہ گھر لوٹے، ہائی اسکول کے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے کہ اسرائیلی افواج نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اس بار جیل کا دروازہ دہائیوں کے لیے بند ہو گیا۔ 1978 میں برغوثی پر ایک اسرائیلی افسر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کو سرسری سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بمشکل بیس برس کے تھے۔ ’’میں لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر انہوں نے کہا۔ ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انہیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔ گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انہوں نے ایک ہی جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے صرف ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد تھے۔ ٹھنڈی کنکریٹ کی فرش پر جسم، جسم سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ نہ پھیلنے کی جگہ، نہ رازداری۔ جیل، ان کے مطابق، صرف قید کی جگہ نہیں تھی۔ (جاری ہے)

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا جیل میں رہے تھے کے ساتھ

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار