یہ قیامت سے پہلے قیامت کے مناظر نہیں تو اور کیا ہیں؟ یکے بعد دیگرے جید علمائے دین، عظیم روحانی و علمی شخصیات، اللہ کے دین کے داعی و شیوخ دار فانی سے دار بقا کی جانب کوچ کررہے ہیں۔
اہل پاکستان بالخصوص اورعالم اسلام بالعموم ابھی حضرت مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی اورحضرت حافظ پیر ذوالفقار نقشبندیؒ کی وفات کا صدمہ نہیں بھولے تھے کہ عالم اسلام کی ایک اور بڑی شخصیت خانقاہ دارالایمان و تقویٰ کربوغہ شریف کے بانی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلویؒ کے آخری خلیفہ حضرت پیرمولانا سید مختار الدین شاہؒ کے وصال کی خبر نے اور رنجیدہ کردیا۔
ایک ماہ میں تین بڑی روحانی علمی شخصیات کا اس طرح یکے بعد دیگرے کوچ کر جانا عالمِ اسلام کے لیے صدمے کا باعث اور اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہوں گے۔
یہ صرف افراد کا جانا نہیں بلکہ درحقیقت علم، حکمت، اعتدال، تقویٰ اور فکری رہنمائی کے میناروں کا ڈھ جانا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اس صورتِ حال کی طرف صدیوں پہلے توجہ دلا دی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا، "اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں نکالتا بلکہ علماء کو اُٹھا کر علم اُٹھا لیتا ہے، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہتا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔" (مشہوۃ المصابیح/کتاب العلم/حدیث:206)۔ آج یہ حدیث گویا ہمارے زمانے اور یکے بعد دیگرے علماء کرام و مشائخ کی رحلت کی عملی تصویر بن چکی ہے۔
عالم اسلام کے نامور عالمِ دین، صاحبِ علم و وقار، داعیِ اعتدال اور مربیِ نسلِ نو حضرت مولانا پیرسید مختار الدین شاہؒ میرے مرشد و مربی ولی ابن ولی شیخ المفسرین و المحدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ سے عمر میں بہت چھوٹے تھے مگر باباجانؒ کے مقربین اور عزیز ترین دوستوں میں سے تھے کیونکہ ڈاگئی باباجیؒ حضرت مختار الدین شاہؒ کے مرشد و مربی شیخ ذکریاؒ کے شاگرد رشید تھے۔
میری ان سے بہت کم ملاقاتیں رہیں اور آخری ملاقات میرے باباجانؒ کی وفات پر تعزیت کے موقع پر ان سے ہوئی، تعزیتی رجسٹر میں باباجانؒ کے سانحہ رحلت پر ان کے تاثرات لکھتے وقت آبدیدہ ہونا نہیں بھول پا رہا ہوں۔
میں آج تک ان کی سحر انگیز شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوں۔ سید مختار الدین شاہؒ کا انتقال ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ ایک پورے علمی، فکری، روحانی اور اخلاقی عہد کے اختتام کی علامت ہے۔
باباجانؒ کی عقیدت کی وجہ سے ہمارے خاندان کا حضرت پیر مختار شاہؒ سے روحانی و قلبی تعلق تھا اور انشاء اللہ نسل در نسل چلتا رہے گا۔ ہمارے لیے یہ سانحہ زندگی کے بڑے سانحات میں سے ایک سانحہ ہے۔
آپ 2 جنوری 1952 میں خیبر پختونخوا کے علاقے کربوغہ شریف میں پیدا ہوئے۔ یہ خطہ شروع سے ہی اسلام سے محبت کرنے والوں کا خطہ رہا ہے، حضرت پیر صاحب کا خاندان بھی اس علاقے میں دینی رجحان کے حوالے سے معروف جانا جاتا تھا۔
اس خاندان نے بہت سے علماء و شیوخ پیدا کیے، جنھوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں، لیکن اللہ نے اپنے دین کا جو کام پیر مختار الدین شاہؒ سے لیا وہ کسی اور کا مقدر نہ بن سکا، جو شہرت اور لوگوں کے دلوں میں محبت ان کی تھی وہ کسی اور کو نہیں ملی۔
1970میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاؒ سے حج کے دوران ملاقات ہوئی اور بیعت کی۔ بیعت کے بعد آپ کے اندر رسمی علومِ دینیہ کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے ابتدائی کتب اپنے استاد حضرت مولانا عبدالجلیل صاحبؒ سے پڑھیں۔
بعد ازاں پاکستان کے مختلف مدارس میں تعلیم مکمل کی اور دارالعلوم کراچی میں حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے زیرِ سایہ تخصص فی الفقہ کیا، ابھی آپ طالب علم ہی تھے کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے آپ کی روحانی تڑپ اور پابندیِ معمولات کو دیکھتے ہوئے خلافت و اجازت سے نوازا۔
حضرت پیر عزیز الرحمٰن ہزارویؒ فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے دو سال تک اپنی خلافت کو ظاہر نہ کیا۔ سید مختار الدین شاہؒ ان علماء میں سے تھے جنھوں نے علم کو محض کتابی ذخیرہ نہیں بنایا بلکہ اسے کردار، حلم، بصیرت اور معاشرتی ذمے داری کے ساتھ جوڑا۔
ان کی گفتگو میں نرمی، استدلال میں پختگی اور طرزِ فکر میں اعتدال نمایاں تھا۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے قائل نہ تھے بلکہ امت کو جوڑنے، سمجھانے اور اصلاح کی طرف لانے والے تھے۔ ان کی پوری زندگی تعلیم و تدریس، اصلاح و دعوت اور فکری رہنمائی میں گزری۔
حضرت پیر مختار شاہؒ نے اپنی پوری زندگی جس مشن کے لیے وقف کی تھی اس کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں، حضرت کا مشن اپنی اصلاح، پوری زندگی کو دین مبین کے مطابق زندگی گزارنا، امت مسلمہ کو اختلاف سے نکال کر اتفاق و اتحاد کی راہ پر لانے جیسے بنیادی عناصر پر قائم تھا اور اسی وجہ سے آپ "مختار الامہ" کے لقب سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔
آپؒ نے لاکھوں طلبہ اور مریدین کی علمی و اخلاقی تربیت کی، بے شمار لوگوں کی فکری الجھنوں کو سلجھایا، اور معاشرے میں دین کو شدت کے بجائے حکمت کے ساتھ پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت مسلکی تنگ نظری سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ علمی اثاثہ بن چکی تھی۔
سید مختار الدین شاہؒ کا فیض و نور بصیرت کا سلسلہ ان کے خاندان اور سیکڑوں خلفاء کے ذریعے انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا۔ ان کے خلفاء میں نامور عالم دین مولانا سید عدنان کاکا خیل اور جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی معروف علمی وروحانی شخصیت مولانا سعیداللہ شاہ جو کام کر رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
کربوغہ شریف میں حضرت کی مجلس ذکر ہوا کرتی تھی، جس میں سیکڑوں یا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں فرزندان توحید جمع ہوکر اپنے شیخ کی معیت میں اللہ ہو کی صدائیں بلند کرتے تھے اور یہ صدائیں دور دور تک فضاؤں کو کلمہ توحید کی مہک سے معطر کرتی تھیں، پورا علاقہ ایک عجیب روحانی منظر پیش کرتا تھا اور اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ یہ علاقہ اللہ والوں کا مسکن ہے۔
حضرت پیر سید مختار الدین شاہؒ جامعہ زکریا دارالامان کے شیخ الحدیث اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست تھے۔ آپ کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ محض کسی ایک مدرسے، ایک حلقے یا ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے علمی ماحول کا نقصان ہے۔
آج کا دور فکری انتشار، انتہاپسندی، اور جذباتی خطابت کا دور بنتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سید مختار الدین شاہؒ جیسے متوازن، حلیم الفطرت اور باوقار علماء کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ شدت اور تفریط کے درمیان اعتدال کی مضبوط و توانا آواز تھے، جو دلیل سے بات کرتے تھے، شور سے نہیں۔
یہ سانحہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے اہل علم کے علم و عمل کو محفوظ کرنے، ان کی تربیت یافتہ نسل تیار کرنے اور ان کے فکری ورثے کو آگے بڑھانے میں کس طرح ممد و معاون بن سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت سید مختار الدین شاہؒ کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ اس مشن کو جو علم کو کردار کے ساتھ، دین کو حکمت کے ساتھ اور دعوت کو خیر خواہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سید مختار الدین شاہؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔
ان کے علمی اور روحانی جانشین و خلیفہ مجاز مفتی سید زبیر شاہ صاحب ابن سید مفتی مختار الدین شاہ صاحبؒ کو کامل روحانی جسمانی صحت کے ساتھ عمر خضر کے استطاعت و استقامت سے نوازیں تاکہ حضرت کے علمی اور روحانی گلشن کی آبیاری جاری رکھیں، میں اپنے خاندان کے تمام افراد کی طرف سے برادر مفتی سید زبیر شاہ صاحب، حضرت کے بھتیجے مفتی صفی اللہ صفدر صاحب اور چچازاد بھائی حضرت مفتی نورالودود صاحب سمیت ان کے تمام پسماندگان سے تعزیت کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین ثمہ آمین یا رب العالمین
اس آرٹیکل کے لکھنے کے دوران مولانا فضل الرحیم اشرفی کی رحلت کی خبر دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو کر رہ گئی۔ مولانا کے ساتھ میرے گزرے ہوئے لمحات دماغ میں گھوم رہے ہیں اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اس پر مفصل آرٹیکل لکھنے کی کوشش کروں گا۔
یا مولائے کائنات رحم کر، ہم سے راضی ہوجا ، ہمارے اکابرین جس تیز رفتاری سے ہمیں چھوڑ کر داغ مفارقت دے رہے ہیں یہ ناقابل تلافی نقصان ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے یا رحمٰن و رحیم رب العالمین ہمارے باقی اکابرین کو ہماری راہنمائی اور سروں پر دست شفقت رکھنے کے لیے کامل روحانی جسمانی صحتوں کے ساتھ عمر خضر سے نواز دے۔آمین ثمہ آمین یا رب العالمین
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سید مختار الدین شاہ حضرت مولانا شیخ الحدیث نہیں بلکہ حضرت پیر رہے ہیں کے ساتھ کے لیے نے اور کے بعد
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔