Jasarat News:
2026-07-24@03:02:19 GMT

حصول مقصد میں رویوں کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-03-7
پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید (1924-2008)
رویہ سوچ کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے جس کا محور کسی شخص کا کسی اہم مقصد کے حصول کے بارے میں ان کی کاوشوں، طریقہ عمل، سوسائٹی میں اس کے منفعت بخش اثرات کا مجموعی تاثر یا نظریے کا احاطہ کرنا ہوتا ہے یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی کسی شخص کے بارے میں یہ کہے کہ وہ مثبت ذہنی سوچ رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مثبت ذہنی رویہ (Positive Mental Attitude) ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نامساعد حالات میں بھی بھلائی کے بارے میں نہ صرف سوچتا ہے بلکہ پْر مقصد عملی اقدام کرنے اور اس کے نتائج کے بارے میں پْر امید رہتا ہے۔ ذہنی رویوں (Mental Attitudes) کے سلسلے میں انتظامی سائنس مینجمنٹ کے ماہرین اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ مثبت رویے اپنے مقصد میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہیں۔ دینی اور فطری تقاضا بھی اس نقطہ ٔ نظر کی تائید کرتا ہے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں سیدنا موسیٰؑ سے فرعون کو رشد و ہدایت کے عظیم مقصد کی دعوت دیتے وقت یہ حکم دیا کہ: ترجمہ: تم اس کو نرم بات کہو شاید وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔ (طہ: 45)

اس ضمن میں ایک کیس اسٹڈی پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید پیش خدمت ہے جو ڈاکٹر صاحب کے 1) ذہنی مثبت رویے (Mental Positive Attitude) اور 2) ذاتی رویے (Personal Attitude) کا مختصراً احاطہ کرتی ہے۔

1) مثبت ذہنی رویہ؛ وژن: ڈاکٹر پروفیسر انیس خورشید کی تمام تر جدو جہد کا مقصد لائبریرین شپ کو جدید لائبریری سائنس اینڈ انفارمیشن کے مکمل نظام میں جدید علمی، معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ اپنے عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے وہ ہر زاویے سے کامیاب نظر آتے ہیں۔

خدمات کی پزیرائی: ڈاکٹر انیس خورشید کے مشن کی تکمیل اور ان کی گرانقدر علمی تحقیقی عملی اقدامات پر دنیا بھر سے اہل علم حلقے سے بھرپور پزیرائی ملی جن میں لائبریری انفارمیشن سائنس شعبے کی غیر ملکی اور ملکی قد آور شخصیات شامل ہیں۔

قدر گوہر شاہ داند یا داند جوہری؛ اعترافات: ڈاکٹر انیس خورشید کا بہت بڑا کارنامہ قائد اعظم محمد علی جاح بانی پاکستان پر ببلیوگرافی ہے جو دو جلدوں میں اردو اور انگریزی سن 1978 میں چھپی۔ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1996 سے نوازا۔ یہ اعزاز حاصل کر نے والے وہ واحد شخصیت ہیں۔ڈاکٹر انیس خورشید کو جامعہ کراچی لائبریری سائنس و انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں 2006 میں لائف ٹائم اچیونمنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کی طرف سے (وثیقہ خدمت)۔ کابینہ کمیٹی نے 1982 میں لائبریریوں کی سہولیات اور دیگر تمام پہلوؤں پر ان کی ترقی و ترویج کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی تشکیل دی اور ڈاکٹر انیس خورشید اس کے چیئرمین منتخب کیے گئے اور اس گروپ میں لائبرین شپ نظام پر جامع رپورٹ پیش کی جو بیوروکریسی کی نظر ہو گئی۔

نئی نسل کے لیے پیغام: ڈاکٹر انیس خورشید نے اپنی گراں قدر خدمات کے ذریعے نئی نسل کو یہ سبق دیا کچھ بھی نا ممکن نہیں بشرطیکہ خلوص اور سنجیدگی سے محنت کی جائے۔

ذاتی رویہ: جہاں تک ذاتی رویہ کا تعلق ہے اس سلسلے میں ان کے بڑے صاحبزادے مظہر جمیل سابق پروفیسر آف میتھ میٹکس نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی لوزیانہ امریکا اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں: ’’ڈاکٹر انیس خورشید میرے والد گرامی ہیں۔ میں ان کے ساتھ قربت کے لحاظ سے ان کی مشاہدات کو صحیح طور پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان کی تعلیم نامکمل تھی، انڈیا سے ہائی اسکول کر کے پاکستان آگئے تھے۔ وقت کی ضرورت کی وجہ سے نوکری کرنا بھی ضروری تھا۔ اس لیے پاکستان میں بھی جاب کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر دھیان دیا۔ صبح جاب کرنا، اس کے بعد اسلامیہ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا، پھر وہاں سے فارغ ہوتے ہی دانشوروں کی محفل جو جبیس ہوٹل میں سجتی تھی، باقاعدگی سے اس میں شمولیت رہتی، پھر گھر پہنچ کر فیملی کی بھی ذمے داری تھی۔ گھر بمشکل گیارہ بجے سے پہلے نہیں پہنچ پاتے تھے۔ اکثر یونیورسٹی میں دیر تک کام کرنے کی وجہ سے پوائنٹ کی بس مس ہو جاتی تھی۔ تو ملیر کینٹ کی بس میں سفر کر کے گھر پہنچنے کے لیے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا تھا۔

صبح ہم سب بھائی بہن ان کے اٹھنے سے قبل اسکول چلے جایا کرتے تھے۔ لیکن وہ ہماری پڑھائی سے غافل نہ تھے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں اچانک باہر سے گھر میں داخل ہوا تو والد صاحب کو ہماری کاپیوں کی جانچ پڑتال میں مصروف پایا۔ وہ باقاعدگی سے ٹیچرز کے کمنٹس پڑھا کرتے تھے اور اس کے مطابق بچوں سے سوال جواب طلب کرتے تھے۔ چونکہ ان کو پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے کا شوق تھا، اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کریں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے میٹرک کیا تو میری والدہ بھی خوش تھیں اور چاہتی تھیں کہ میں جاب کروں تا کہ گھر کا سہارا بنوں، لیکن والد صاحب نے کہا ہم اسے اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے۔

بچوں سے خصوصاً لڑکیوں سے بہت محبت کرتے تھے اور اچھے سے اچھا کھلانے پلانے کی کوشش کرتے تھے۔ والدہ کا بھی بہت خیال کرتے تھے۔ ہماری والدہ نے گھر کو بہت اچھی طرح سنبھالا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دو مرتبہ ہم لوگوں کو دو سے پانچ سال تک چھوڑ کر امریکا اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے گئے تھے اور وہاں سے باقاعدگی سے گھر کے اخراجات کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جب تمام خطوط جمع ہوئے تو علم ہوا کہ انڈیا میں بھی دادا دادی کو پیسے بھیجتے تھے۔ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ سب کا خیال کرتے تھے اور خاص طور سے پڑھائی کے معاملے میں سب کی ہمت افزائی کرتے تھے اور ان کی کامیابیوں سے خوش ہوا کرتے تھے‘‘۔

ملازمین ؍ ماتحتوں سے رویہ: ڈاکٹر انیس خورشید صاحب اصول کے سخت پابند تھے انہوں نے دیانت داری محنت اور لگن سے کام کر کے لوگوں کے دل جیتے خوشامد پسند قطعی نہ تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی میں کافی نقصان اٹھایا مگر اسی جستجو میں کام کرتے رہے اور وہ چاہتے تھے کہ تمام لوگ اصولوں کے پابند ہوں وعدہ خلافی قطعی ناپسند تھی وہ چاہتے تھے کہ اگر آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو ذمے داری لیں اور وقت پر مکمل کریں چاہے اپنا نقصان کیوں نہ ہو لیکن تاخیر قطعی نا پسند تھی اسی وجہ سے کچھ لوگ ان کے خلاف ہوئے جبکہ غلط کام وہی لوگ کر رہے تھے دیانتداری اتنی تھی کہ اپنے مخالفین کے کاموں میں بھی تاخیر نہ کی ہمیشہ لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے ان کی حمایت کرتے تھے کچھ ملازمین ایسے تھے جنہوں نے ملازمت کا آغاز چپراسی سے کیا اور جاب کے ساتھ ساتھ ایم اے یا ایم ایس سی کر کے کالج میں پروفیسر ہو گئے کوئی تو چیف اکاؤنٹنٹ بھی بن گیا ایسی کئی مثالیں ہیں ان کا رویہ تمام لوگوں کے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا جو لوگ اصول کے پابند تھے محنت سے کام کرتے تھے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور ترقی کی، دوسرے لوگ سیاست کرتے رہے۔

طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ: ڈاکٹر انیس خورشیدؒ طلبہ کی نظر میں نہایت مقبول اور محترم شخصیت تھے۔ انہیں ایک باصلاحیت استاد ہی نہیں بلکہ شفیق سرپرست کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ ان کی علمی خدمات اور تصانیف آج بھی اہل ِ علم اور طلبہ کے لیے استفادے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے لائبریری سائنس کے نصاب میں کمپیوٹر کورس شامل کر کے ایک انقلابی قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں طلبہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ ان کی انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جامعہ کراچی نے کمپیوٹر لیب کو ان کے نام سے منسوب کیا۔

ڈاکٹر انیس خورشید کو پاکستان میں جدید لائبریری سائنس کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک ممتاز محقق کے طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے انتقال کو بیس برس ہونے والے ہیں، مگر آج بھی انہیں عزت، عظمت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شعبہ میں اپنے معاون کے ساتھ محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے ان کی بہتری کے لیے ہمیشہ باہر سے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کوشاں رہتے تھے لیکن کبھی اصولوں پر سودا نہ کیا جس نے محنت اور لگن سے کام کیا اس کی ہمیشہ ہمت افزائی کی اور قدر کی یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر انیس خورشید اور ان کی اہلیہ محترمہ رقیہ بیگم نے بے انتہا قربانیاں دے کر اپنے بچوں کی بے مثل تربیت کی۔ ان کے بیٹے شفیق اجمل ڈائریکٹر درسِ قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ انہوں نے علمائے کرام کا ایک شاندار گلدستہ ترتیب دیا۔ جید، نامور، مستند، عظیم شہرت کے حامل ان علمائے کرام نے اپنی خدمات سے دین ِ اسلام کے فہم اور فروغ میں اپنا گراں قدر حصہ ملایا۔ آج درسِ قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ دنیا بھر میں ایک انتہائی قابل ِ اعتماد منفرد مقام رکھتی ہے دو دہائی پر محیط درسِ قرآن ڈاٹ کام سے دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے استفادہ کیا۔ مولانا انور غازی کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں تین چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے۔ (1) نیک اعمال، (2) صدقہ جاریہ، (3) نیک اولاد۔ ڈاکٹر انیس خورشید یہ تینوں کام کر گئے۔

خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را

پروفیسر صفدر احمد خان سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر انیس خورشید لائبریری سائنس کرتے تھے اور کے بارے میں انہوں نے کے ساتھ میں بھی کے لیے سے کام کام کر اور ان

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار