سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک مقبول عوامی لیڈر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قوم کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف حکومتی جبر، گرفتاریوں، کریک ڈان اور آزادیِ اظہار پر قدغنیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ حکمران عوامی حمایت سے محروم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر و سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان نے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے سندھ کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ پی ٹی آئی کی جاری اسٹریٹ موومنٹ میں عوامی رابطے کو مضبوط بنانے میں اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت نے محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح کے لیے عملی اقدامات کیے، جو دیگر صوبوں کے لیے مثال ہیں۔ فہیم خان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر آئینی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مقبول عوامی لیڈر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قوم کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف حکومتی جبر، گرفتاریوں، کریک ڈان اور آزادیِ اظہار پر قدغنیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ حکمران عوامی حمایت سے محروم ہیں۔ فہیم خان کے مطابق جب حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوجائے تو وہ طاقت کے استعمال کا سہارا لیتی ہے۔ سابق ایم این اے نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی قوتِ خرید ختم ہوچکی ہے، جبکہ حکومت صرف دعوں اور اعداد و شمار کی ہیر پھیر میں مصروف ہے۔ 

انہوں نے بیرونی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ آنے والی نسلوں کو مقروض بنانے والی پالیسیاں قومی مفاد کے خلاف ہیں۔ فہیم خان نے فارم 47 کے ذریعے قائم کی گئی جعلی حکومت کو مکمل طور پر نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عوام کا مینڈیٹ چرا کر اقتدار میں آئی ہے، اسی لیے نہ معیشت سنبھال سکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف دے سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین، عمران خان کا سمیت تمام اسیران کی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ فہیم خان ہوئے کہا انہوں نے

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ