زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت
برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات کے فروغ پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان م جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی،اجلاس کو برآمدات میں اضافے کے حوالے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں جولائی تا دسمبر 2025 تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کئے گئے،اجلاس کو ہائی ویلیو سیکٹر، جیسا کہ انجینئرنگ، ادویات میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ، کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،بریفنگ میں بتایا گیاکہ ملکی برآمدات کو گلوبل ویلیو چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے،برآمد کنندگان کو سہولت دینے کے حوالے سے ملک میں پورٹس اور لاجسٹکس کے نظام کو بہتری لائی جا رہی ہے،چاول کی برآمدات کے حوالے کئی ممالک سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے،اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے،انہوں نے برآمدات میں اضافے اور ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی انہوں نے کہاکہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: برا مدات میں اضافے برا مد کنندگان کو کے حوالے سے کی برا مدات

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ