یاسمین راشد کی پٹیشن مقررہ وقت پر دائر نہ سیکشن 143 پر پورا اترتی ہے: ٹربیونل جج
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔ ٹریبونل کے جج رانا زاہد نے چوبیس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 144 کے تحت پٹیشن دائر کرتے وقت تمام قانونی لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں۔ ڈاکٹریاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن الیکشن ایکٹ کے سیکشن 139,142,143 اور 144 کی اہلیت پر پورا نہیں اترتی۔ الیکشن ایکٹ کے تحت کسی کو بھی فریق بنانے کے لیے ٹربیونل کی اجازت لازم ہے۔ فیصلہ میںمزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن پٹیشن مقررہ وقت کے اندر دائر نہیں کی۔ چودہ فروری کو نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ ٹریبونل بننے کے باوجود مقررہ وقت میں پٹیشن دائر نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن ٹربیونل کے بجائے الیکشن کمشن میں پٹیشن دائر کی۔ درخواست گزار نے الیکشن کمشن اور ریٹرننگ آفیسر کو فریق بنانے کے لیے ٹریبیونل سے اجازت نہیں لی۔ درخواست گزار کا یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ الیکشن کمشن، ریٹرننگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کو فریقین کی لسٹ سے ڈیلیٹ کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی کامیابی کے خلاف ڈاکٹر یاسمین راشد کی پٹیشن ناقابل سماعت قرار دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق درخواست کے ساتھ لگایا گیا حلف نامہ غلطی سے گم ہو گیا ہے۔ یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن کے ساتھ تمام ثبوت اور رسیدیں لف کی گئیں۔ نواز شریف کے وکیل نے الیکشن پٹیشن کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ نواز شریف کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دائر کی گئی۔ نواز شریف کے وکیل کے مطابق یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن پر دستخط موجود نہیں۔ فیصلے میں لکھا ہے کہ یاسمین راشد نے نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی کو ٹریبیونل میں چیلنج کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن نواز شریف کے نے الیکشن
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔