5 بڑوں میں مینڈیٹ صرف عمران کے پاس ہے، نواز و شہباز بااختیار نہیں، حکومت خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
خیبرپختونخوا (کے پی) کی صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے حکومت کو بے اختیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے 5 بڑوں میں مینڈیٹ صرف عمران خان کے پاس ہے جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف بااختیار نہیں ہیں۔
راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان حکومت خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا ضروری ہے، ذمہ داری حکومت پر زیادہ ہے، نواز شریف اور شہباز شریف با اختیار نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں اور 5 بڑوں میں واحد حقیقی مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے، بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں پارٹی ایک مضبوط قوت ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی مذاکرات سے متعلق بیان مذاق کے مترادف ہے، احتجاج سے روکنے کے لیے 9 مئی کے مقدمات بطور دباؤ استعمال ہو رہے ہیں، 9 مئی کے کیسز ایک فالز فلیگ آپریشن ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 4 دسمبر کے بعد بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، وکلا سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی جو ان کا بنیادی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ عدالتی عمل پر سوالیہ نشان ہے، 59 صفحات کا فیصلہ جونیئر وکیل کے ذریعے سنا دینا تماشا ہے، مذاکرات کی بات تب کی جاتی ہے جب پی ٹی آئی کی تحریک مومنٹم پکڑتی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر کرفیو جیسی صورت حال پیدا کی گئی ہے، لنڈا بازار میں دکانیں بند کر کے 80 افراد پر مقدمات بنائے گئے اور ہمیں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں حکومت سندھ کا رویہ خوش آئند ہے، سندھ میں آئینی اور قانونی حق کے تحت سیاسی سرگرمیاں کریں گے، اسٹریٹ موومنٹ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پی ٹی آئی کی شفیع جان نے نے کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔