یاسمین راشد کی نواز شریف کیخلاف الیکشن پٹیشن مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
الیکشن ٹربیونل نے این اے 130 ڈاکٹر یاسمین راشد کی مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد کردی، جس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہو گیا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ 14 فروری کو نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، ٹربیونل بننے کے باوجود مقررہ وقت میں پٹیشن دائر نہیں کی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کا پٹیشن تاخیر سے دائر کرنے کا جواز درست نہیں، یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن پر دستخط موجود نہیں۔ پٹیشن قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دائر کی گئی۔
واضح رہے کہ یاسمین راشد نے نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی کو ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔
یاسمین راشد نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کیمشن نے قانون کے منافی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: یاسمین راشد نواز شریف
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔