این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کیخلاف پٹیشن مسترد،تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
این اے 130 سے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا، ٹریبونل کے جج رانا زاہد نے چوبیس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 144 کے تحت پٹیشن دائر کرتے وقت تمام قانونی لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن الیکشن ایکٹ کے سیکشن 139,142,143 اور 144 کی اہلیت پر پورا نہیں اترتی، الیکشن ایکٹ کے تحت کسی کو بھی فریق بنانے کے لیے ٹربیونل کی اجازت لازم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن پٹیشن مقررہ وقت کے اندر دائر نہیں کی گئی، چودہ فروری کو نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، ٹریبونل بننے کے باوجود مقررہ وقت میں پٹیشن دائر نہیں کی گئی، ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن ٹربیونل کے بجائے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے الیکشن کمیشن اور ریٹرنگ آفیسر کو فریق بنانے کے لیے ٹریبیونل سے اجازت نہیں لی، درخواست گزار کا یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، الیکشن کمیشن، ریٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کو فریقین کی لسٹ سے ڈیلیٹ کیا جاتا یے۔
ٹربیونل کے فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف کی کامیابی کے خلاف ڈاکٹر یاسمین راشد کی پٹیشن ناقابل سماعت قرار دی جاتی ہے ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق درخواست کے ساتھ لگایا گیا حلف نامہ غلطی سے گم ہو گیا ہے، یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن کے ساتھ تمام ثبوت اور رسیدیں لف کی گئیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف کے وکیل نے الیکشن پٹیشن کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، نواز شریف کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دائر کی گئی، نواز شریف کے وکیل کے مطابق یاسمین راشد کی الیکشن پٹیشن پر دستخط موجود نہیں ،
ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف الیکشن پٹیشن مسترد کی جاتی ہے۔
یاسمین راشد نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی کو ٹریبیونل میں چیلنج کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر یاسمین راشد کی کے وکیل کے مطابق الیکشن پٹیشن نواز شریف کے نواز شریف کی
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔