زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے، خسارے کا شکار اداروں کی نجکاری ترجیح: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے۔ انہوں نے زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیاء کی تیاری کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلباء و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کیلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کئے جائیں اور آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمشن کا اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری اولین ترجیحات میں سے ہے۔ پی آئی اے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قصرہ ہے۔ وزیراعظم نے نجکاری کمشن میں اصلاحات سے متعلق کام تیز کرنے کی ہدایت کی نجکاری کمشن میں بہترین صلاحیتوں کی حامل افرادی قوت تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی وزیراعظم نے کہا کہ نجکاری سے متعلق منصوبوں کا عالمی معیار کی فرم سے آڈٹ کرایا جائے۔ وزیراعظم نے نجکاری کمشن میں پبلک ریلیشنز، مارکیٹنگ کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی اجلاس کو نجکاری کمشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف18 جنوری سے سوئٹزرلینڈ کا چار روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف وہ جینوا میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کریں گے۔ دورے کا مقصد بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینا اوراقتصادی تعاون کے مواقع تلاش کرنا ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینئر سیاستدان راجہ ظفر الحق کی رہائش گاہ گئے جہاں انہوں نے راجہ ظفر الحق کی عیادت کی ۔ منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے راجہ ظفر الحق کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ۔ وزیراعظم نے پارٹی اور ملکی سیاست کیلئے ان کی خدمات کو سراہا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔