اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف جاری ریاستی اقدامات کی مخالفت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ کن کارروائیوں کے خلاف بیانیہ دراصل دہشت گرد عناصر کے مؤقف کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام یا سیاسی مصلحت نہ صرف قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان ہزاروں شہدا کی قربانیوں سے بھی ناانصافی ہے جنہوں نے پاکستان کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ اس صوبے کے عوام نے لاشیں اٹھائیں، اپنے پیاروں کو کھویا اور شدید تباہی کا سامنا کیا، مگر اس کے باوجود آج افسوسناک طور پر اسی صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں پر سیاست کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس صوبے کے عوام کی تکالیف کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آپریشنز کی مخالفت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس رویے نے ایک سنگین بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا اقتدار کی سیاست قومی سلامتی سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عناصر جنہوں نے مساجد، بازاروں، تعلیمی اداروں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، ان کے خلاف کارروائی پر شکوک و شبہات پیدا کرنا شہداء کے خون سے بے وفائی کے سوا کچھ نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف ہی ریاست کو مضبوط بناتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے زور دیا کہ یہ حقیقت کسی صورت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاک فوج، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکورٹی اداروں کے ہزاروں جوانوں نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کی قیمت عام شہریوں نے بھی چکائی، ماں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور خاندان اجڑ گئے، مگر یہ سب کچھ کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ناراض گروہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، جس کے ہاتھ ہزاروں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں نرم زبان اختیار کرنا یا ریاستی کارروائیوں کی مخالفت کرنا ان قربانیوں کی توہین ہے جو سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے دیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی رعایت ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست کا اولین فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے اور افواجِ پاکستان اسی آئینی ذمہ داری کو نبھا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کنفیوژن، ابہام یا تقسیم کی نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاست اپنی جگہ، مگر ریاست، قومی سلامتی اور شہدا کی قربانیاں ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہونی چاہییں، کیونکہ مضبوط اور محفوظ پاکستان ہی تمام سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی بنیاد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دہشت گردی کے خلاف طارق فضل چوہدری کی مخالفت نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔

انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار