کے پی کے میں دہشت گردوں کیلئے سازگار سیاسی ماحول: بھارت، افغانستان ملکر آ جائیں شوق پورا کر دینگے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ 2025ء میں نام نہاد آپریشن سندور کے خلاف معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا اور اسے سبق سکھایا گیا‘ پاک افغان سرحد پر اکتوبر میں جھڑپیں ہوئیں پاکستان نے دہشتگردی کا بھرپور جواب دے کر دہشتگردوں کو نیست و نابود کیا جبکہ دہشتگردی کا ناسور ساڑھے دس فیصد بھی کہیں ہوا تو وہاں ریاستیں بھی قائم نہیں رہ سکیں۔ افغان بارڈر بند کیا جس کے بعد ہم بہت سکھی ہیں، پچھلے سال دہشتگردوں کے خلاف 75ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب آپریشن کئے۔ دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے سویلینئز 1235 کی شہادتیں ہوئیں، دہشتگردی کے80 فیصد واقعات خیبر پی کے میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ خیبر پی کے میں دہشتگردی کیلئے سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، کے پی میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، کے پی کے میں دیگر تمام جماعتوں پر حملے ہوتے رہے ہیں لیکن ایک یہ جماعت ہے جس پر کبھی حملہ نہیں ہوتا۔ 2025ء میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی پریس کانفرنس میں تفصیلات جاری کر دیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں۔ ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے بھی پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔ پاکستان کی فوج اپنے وطن اور اپنی قوم کے دفاع کیلئے ہمہ وقت چوکس ہے۔ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشن کئے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات صرف خیبر پی کے میں کیوں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن کیے۔ خیبر پی کے میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں ایک ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔ گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے۔ کے پی میں سیاسی طور پر سازگار ماحول دہشتگردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ2021ء میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا تو اس سال 193 دہشتگرد جہنم واصل کیے گئے۔2021ء میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔ حکومت میں دیگر طبقوں کو بھی شامل کریں گے لیکن عبوری افغان حکومت نے اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سال 2025 ء میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے دنیا بھر کی تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے گزشتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ خوارجی دہشتگردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی اور ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیاگیا اور انہیں سبق سکھایاگیا، پاک افغان بارڈر پر صرف دہشتگردوں پر حملے کئے گئے جب افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹس پر حملہ کیے پھر جو ضروری تھا وہ کیاگیا اور ایک ہارڈ میسج دیا گیا، آخری تین مہینوں میں ہم نے بارڈر بند کر دئیے، دیکھنے والوں اورسمجھنے والوں کے لیے یہاں بھی کئی نشانیاں ہیں۔ دہشتگردی کا ناسور کا 5، 10 فیصد کہیں اور آیا تو وہ ریاستیں قائم نہیں رہ سکیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آج گزشتہ سال دہشتگردی کے ہونے والے واقعات سے متعلق جامع احاطہ کیا جائے گا، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، دہشتگردوں کا پاکستان، اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔ دہشتگردی کی وجہ سے افغانستان سے اس کے ہمسائے ممالک بھی نالاں ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنا ہے، یہ جنگ ہم نے طاقت سے جیتنی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے۔ فتنہ الخوارج کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے واپس جاتے ہوئے وہاں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کرگیا۔ اس معاملے پر امریکہ سے بات ہو رہی ہے، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے۔ افغان طالبان ’’وار اکانومی‘‘ کو چلانے کے لیے دہشتگردی کو سپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنا رہی ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے جب ہم دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں، 2023ء میں ریاست پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کھڑی ہو گئی، سوال کیا جاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہوتی ہیں جن کیلئے لڑنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ جائز ہے، ہم دہشتگردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی۔ اکتوبر 2025ء میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے یہ حق ہندوستان کوکسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفراسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔ ہم نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹی ٹی اے کو نشانہ نہیں بنایا، ٹی ٹی پی والوں کے خلاف وہی کیا جو ہمیں پاکستان کس آئین اور قوانین اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشتگرد ہیں اورکہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے۔ اس پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں 10 بڑے واقعات نظر آتے ہیں۔ دہشتگردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے یہ تمام دہشتگردانہ حملے افغانیوں نے کئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے ہرگز نہیں یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشتگردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے سکولوں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔ ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے۔ ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں۔ خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ہمارے نزدیک دہشتگرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں، دہشتگردوں کا ایک باپ افغان طالبان ہے، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب ہونا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جو جنگ پاکستان نے لڑی ہے، دنیا میں کسی نے نہیں لڑی دنیا آج پاکستان کی معترف ہے، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے، حق نے ہمیشہ غالب ہونا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے ہم حق پر ہیں، اور حق ان شاء اللہ غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین کہتا ہے ملک کی خود مختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے کسی کی سیاست، کسی کی ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں، تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو کہتا ہے کہ وہ بے اختیار تھا، وہ اتنا بااختیار تھا کہ اس نے اس وقت کے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمد علی جناح ہے جس نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا اور ہمارے قومی شاعر علامہ محمد اقبال ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک لیڈر اپنی جماعت کو آمر کی طرح چلاتا رہا جو حکومت ہوتی ہے وہی ریاست ہوتی ہے، اسے ملک کو لیکرچلنا ہوتاہے، فوجی بیلک اینڈ وائٹ میں سوچتا ہے جبکہ سیاستدان مختلف شیڈز میں، حکومت کے ساتھ دیگر ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہے ہیں، ہر مسئلے کا حل آئین میں موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا اس سال پیغام پاکستان کا اعادہ کیا گیا، یہ کلیئرٹی علماء اور مشائخ کو بھی ہے دوسری کلیئرٹی ہندوستان اور فتنہ الخواج کے گٹھ جوڑ کے بارے میں آئی۔ افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025ء میں کھل کر سامنے آئے، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، بھارتی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس بار افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں گے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک کہا کہ افغانستان اور ہندوستان آ جائیں اور یہ بولنے والے بھی آئیں ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں۔ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ جاؤ ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔ ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے یہ کونسی خوش کرنے کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہیبت اﷲ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔ پی ٹی آئی حکومت افغان طالبان سے مدد مانگ رہی ہے۔ خیبر پی کے حکومت نے صوبے میں دہشتگردی کیخلاف آپریشنزکی مخالفت کی۔ سکیورٹی ہو گی تو کاروبار چلے گا۔ خیبر پی کے میں فوجی آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ 2025ء دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جا رہی ہے۔ خیبر پی کے میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشوونما پا رہا ہے۔ دہشت گرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا۔ سب دہشت گرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے۔ ہماری کسی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے دہشت گردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف دہشتگردی کے خلاف جنگ سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے دہشت گردی کے خلاف انسداد دہشتگردی گردی کے خلاف جنگ دہشتگردی کے لیے کو نشانہ بنایا افغانستان میں خیبر پی کے میں میں دہشتگردی افغانستان سے دہشتگردوں کو افغان طالبان کہ افغانستان فتنہ الخوارج کہ دہشتگردی دہشتگردی کا دہشتگردی کی میں دہشتگرد ا پریشن کیے پوری قوم کی پاک افغان وزیر اعلی کی جنگ ہے معرکہ حق کرتے ہیں ٹی ٹی پی کہا کہ ا رہے ہیں کیے گئے میں پاک کہ دہشت پر حملے حملے ہو پاک فوج نہیں ہے ہیں اور ہوتی ہے سے کوئی ہے اور ہیں کہ کا ایک اس سال رہی ہے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔