WE News:
2026-07-24@05:20:32 GMT

پاکستان میں5G سروسز کے آغاز کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

پاکستان میں5G سروسز کے آغاز کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار

پاکستان میں جدید 5G سروسز کے آغاز کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے باوجود 5Gسے متعلق سمری تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو موصول نہیں ہو سکی، جس کے باعث اسپیکٹرم نیلامی اور سروسز کے اجرا پر پیش رفت ممکن نہیں ہو پارہی۔

یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم نیلامی کی تیاری مکمل، جدید بینڈز پہلی بار دستیاب، وفاقی وزیر آئی ٹی کی پریس کانفرنس

پی ٹی اے کے مطابق وفاقی کابینہ نے 25 دسمبر 2025 کو G5سمری کی منظوری دی تھی، تاہم یہ سمری پالیسی ہدایت کی صورت میں اب تک تحریری طور پر پی ٹی اے کو ارسال نہیں کی گئی۔

منظوری کے بعد بھی سمری میں ترامیم کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے پی ٹی اے اس وقت تک حتمی کارروائی شروع نہیں کر سکتا جب تک منظور شدہ دستاویز باضابطہ طور پر موصول نہ ہو جائے۔

پی ٹی اے کو اس وقت تک کابینہ سے منظور شدہ سمری کی شقوں کا علم نہیں۔ سمری موصول ہونے کے بعد اتھارٹی ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گی، جس میں 5Gاسپیکٹرم نیلامی کے قواعد و ضوابط، نیلامی کی شرائط اور تکنیکی تفصیلات شامل ہوں گی۔اسی میمورنڈم کے اجرا کے بعد اسپیکٹرم نیلامی کے عمل کا باقاعدہ آغاز ممکن ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی 5G اسپیکٹرم نیلامی کی اصولی منظوری دیدی گئی

پی ٹی اے ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں موبائل سروسز کے لیے تقریباً 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے۔

 5G کے لیے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ مزید 300 میگا ہرٹز اسپیکٹرم شامل کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس سے 5G سروسز کے معیار اور رفتار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

پی ٹی اے  کے مطابق اسپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز ملک بھر میں اپنے بی ٹی ایس ٹاورز پر نئے 5G بینڈز فعال کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں بھی دستیاب اسپیکٹرم کے مطابق نئے موبائل فون متعارف کرائیں گی اور موجودہ ڈیوائسز کو اپ گریڈ کریں گی تاکہ صارفین 5G سروسز سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: 5G کا انتظار مزید تول پکڑ ے گا، پی ٹی اے نے وجوہات بتادیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ G5 کے اجرا میں تاخیر سے ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

 کاروباری حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ G5 سمری فوری طور پر پی ٹی اے کو منتقل کی جائے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ڈیجیٹل دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

5G we news پاکستان پی ٹی اے وزارت آئی ٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پی ٹی اے وزارت ا ئی ٹی اسپیکٹرم نیلامی سروسز کے کے مطابق پی ٹی اے کے بعد

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم