اوورسیز پاکستانی: خاموش طاقت یا نظر انداز شدہ قومی اثاثہ؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 January, 2026 سب نیوز

تحریر: چوہدری شفقت محمود
صدر، پاکستان انویسٹر فورم
جدہ، مملکتِ سعودی عرب

پاکستان کی تاریخ پر اگر دیانت داری سے نظر ڈالی جائے تو ایک طبقہ ایسا ضرور نظر آتا ہے جس نے بغیر کسی شور، مطالبے یا صلے کے، ہر مشکل گھڑی میں وطن کا سہارا بن کر کردار ادا کیا — یہ طبقہ اوورسیز پاکستانیوں کا ہے۔


وہ پاکستانی جو روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کی تلاش میں سرحدوں سے دور جا بسے، مگر دل، سوچ اور وابستگی آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو قدرتی آفات ہوں، معاشی بحران ہو یا زرمبادلہ کا دباؤ — ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کو سنبھالتے ہیں۔ ان کی ترسیلاتِ زر نہ صرف معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ لاکھوں گھروں کے چولہے جلانے کا ذریعہ بھی۔ اس کے باوجود، ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سطح پر انہیں آج بھی زیادہ تر صرف ڈالر بھیجنے والی مشین سمجھا جاتا ہے، ایک مکمل اور باوقار شراکت دار نہیں۔
.


اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات صرف پیسوں تک محدود نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، کاروباری رہنما اور پروفیشنلز وہ قیمتی انسانی سرمایہ ہیں جو جدید نظم و نسق، جدید سوچ اور عالمی تجربات پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس سرمایہ کو قومی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی؟

بدقسمتی سے پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ رویہ اکثر مایوس کن رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے نام پر پیچیدہ قوانین، غیر ضروری بیوروکریسی، عدم شفافیت اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی نے کئی سنجیدہ سرمایہ کاروں کو بددل کیا۔ نیت ہو تو دروازے کھلتے ہیں، مگر یہاں اکثر دروازے فائلوں اور دستخطوں میں گم ہو جاتے ہیں۔


سیاسی میدان میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کی آواز کمزور رہی۔ ووٹ کے حق پر تقاریر تو بہت ہوئیں، مگر آج تک ایک مؤثر، قابلِ اعتماد اور مستقل نظام قائم نہ ہو سکا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بیرونِ ملک بیٹھ کر بھی پاکستان کے سیاسی اور جمہوری مستقبل سے جڑا ہوا ہے، مگر عملی شرکت کے مواقع محدود ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔ وہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں، منفی پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیتے ہیں، اور تجارت، سرمایہ کاری و سیاحت کے نئے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر اس سب کے لیے ضروری ہے کہ ریاست انہیں محض نعروں کے بجائے عملی طور پر شراکت دار تسلیم کرے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔


محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع، بااختیار ادارہ جاتی پلیٹ فارمز، قابلِ اعتماد اوورسیز ووٹنگ سسٹم اور پالیسی سازی میں حقیقی مشاورت جیسے اقدامات نہ صرف اعتماد بحال کر سکتے ہیں بلکہ ملکی ترقی کو نئی رفتار بھی دے سکتے ہیں۔
آخر میں سوال بہت سادہ مگر فیصلہ کن ہے:
کیا ہم اوورسیز پاکستانیوں کو صرف مشکل وقت میں یاد کریں گے، یا انہیں قومی ترقی کا مستقل، باوقار اور مؤثر حصہ بنائیں گے؟
اگر پاکستان نے اس خاموش طاقت کو درست سمت دے دی تو معاشی استحکام، عالمی وقار اور مضبوط جمہوریت کوئی خواب نہیں رہیں گے۔
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
آخر میں بات پھر وہی ہے —
مسئلہ صلاحیت کا نہیں، اعتماد اور نیت کا ہے۔
اوورسیز پاکستانی آج بھی پاکستان کے لیے سوچتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ریاست انہیں وہ مقام دے گی جس کے وہ حقدار ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے، تو یہ خاموش طاقت بہت جلد ایک مضبوط قومی قوت میں بدل سکتی ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ????????

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کے انتقال پر اہلِ خانہ سے تعزیت مسئلہ کشمیر: حق خودارادیت کی جدوجہد اور عالمی ذمہ تحریک تحفظ آئین پاکستان جب ایمان کو یرغمال بنا لیا جائے دنیا بھارت میں بڑھتی نفرت اور تشدد کو نظرانداز کیوں نہیں کر سکتی ریل گاڑی کی ہر کھڑکی سے ایک نئی دنیا کا نظارہ، ٹرین کا آرام دہ سفر 2025ء میں کتنا کٹھن رہا، آمدن کیا رہی؟ ازبکستان کی فعال دیپلماتکن: 2025 — متحرک مکالمے سے ٹھوس نتائج تک TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی