کراچی، ایس آئی یو اور ٹاسک فورس کے منشیات فروشوں کے خلاف مشترکہ آپریشن، ایک ہلاک، ایک زخمی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں ایس آئی یو اور ٹاسک فورس نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کیں جن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
شریف آباد میں ایک مبینہ آپریشن کے دوران ایک منشیات فروش ہلاک اور اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا۔
دو طرفہ فائرنگ کے دوران پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچا۔ ہلاک ملزم کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ اور شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ تلاش ڈیوائس کے ذریعے مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔
نادرن بائی پاس پر ویگو ڈالے میں سوار دیگر منشیات فروشوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
زخمی ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا اور اس کی شناخت اور سابقہ مجرمانہ ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔
ملزم کے قبضے سے ایک رائفل، گولیاں اور بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی۔ ڈیوٹی افسران نے مزید قانونی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو محمد عمران خان کے مطابق یہ کارروائیاں شہر میں منشیات فروشوں کی سرکوبی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منشیات فروشوں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔