قبضے میں لیے گئے روسی بحری جہاز کے عملےکو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: وائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وائٹ ہاؤس نے وینزویلا کی ناکہ بندی سے بچنے والے ایک روسی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد جاری بیان میں کہا ہے کہ جہاز کے عملے کو اب قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بحرِ اوقیانوس میں آئل ٹینکر کی ضبطگی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا تمام پابندیوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز کے عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے گرین لینڈ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں، تاہم امریکا کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارتی راستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے عبوری حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور امریکا وینزویلا اور امریکی تیل کی صنعت کے ساتھ معاہدے پر مل کر کام کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق رواں ہفتے تیل کمپنیوں کے سربراہان وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر صدر ٹرمپ تیل کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے امریکی فوج کے استعمال کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے وینزویلا میں انتخابی شیڈول پر بات کو فی الحال قبل از وقت قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔