data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وائٹ ہاؤس نے وینزویلا کی ناکہ بندی سے بچنے والے ایک روسی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد جاری بیان میں کہا ہے کہ جہاز کے عملے کو اب قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بحرِ اوقیانوس میں آئل ٹینکر کی ضبطگی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا تمام پابندیوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز کے عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے گرین لینڈ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں، تاہم امریکا کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارتی راستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے عبوری حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور امریکا وینزویلا اور امریکی تیل کی صنعت کے ساتھ معاہدے پر مل کر کام کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق رواں ہفتے تیل کمپنیوں کے سربراہان وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر صدر ٹرمپ تیل کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے امریکی فوج کے استعمال کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے وینزویلا میں انتخابی شیڈول پر بات کو فی الحال قبل از وقت قرار دیا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب