ٹرمپ انتظامیہ نے کیپٹل ہل حملے کا الزام نینسی پلوسی پر عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے 2021 کے کیپٹل ہل حملے کا الزام سابق ڈیموکرٹیک اسپیکر نینسی پلوسی پر عائد کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے 6 جنوری 2021 کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی ایک کوشش کرتے ہوئے پولیس اور اْس وقت کی اسپیکر نینسی پلوسی کو مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 6 جنوری کو گرفتار افراد کے ساتھ ناانصافی ہوئی ، احتجاج کرنے والوں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا، سیکورٹی انتظامات میں کوتاہی اور مظاہرین کو روکنے میں ناکامی ہوئی جس کی ذمے دار نینسی پلوسی تھیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک نئی ویب سائٹ متعارف کرائی جس میں 6 جنوری 2021 کے تاریخی واقعات کو مکمل طور پر نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ میں 5سال قبل کانگریس پر دھاوا بولنے والے ٹرمپ کے حامی ہجوم کوپرامن مظاہرین قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اشتعال دلایا تھا۔ نئی ویب سائٹ بغیر کسی ثبوت کے یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ کیپٹل ہل پر تشدد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اْس وقت کی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کی طرف سے بھڑکایا گیا تھا۔ ویب سائٹ پر اْس دن کے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو متاثرین کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً 1600 افراد کا ہیرو دکھایا گیا ہے،جنہوں نے وسیع پیمانے پر معافیوں کا اعلان کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ برسوں سے 6 جنوری کے واقعات کی تاریخ کو مسخ کرتے آ رہے ہیں، جب ان کے ہزاروں حامیوں نے صدر منتخب جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کو روکنے کی امید میں پرتشدد طریقے سے امریکی کیپٹل پر دھاوا بول دیا تھا۔ تاہم نئی ویب سائٹ ٹرمپ کے ماضی کے بیانیے سے بھی ایک قدم آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے اور اْن دعوؤں کو وائٹ ہاؤس کے ایک سرکاری پلیٹ فارم پر جگہ دے دی ہے۔ نئی ویب سائٹ کا ایک مرکزی موضوع ٹرمپ کا دیرینہ جھوٹا دعویٰ ہے کہ 2020 ء کے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کی گئی تھی ۔ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ سے متعلق ان کے بار بار دہرائے گئے جھوٹ ہی وہ بنیادی وجہ تھے جن کے باعث وہ اور ان کے حامی 6 جنوری کو کانگریس کو انتخابی نتائج کی توثیق سے روکنا چاہتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاو س نے نئی ویب سائٹ نینسی پلوسی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔