ایف آئی اے کی 2025 میں کارروائیاں، 561.1 ملین مالیت کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ایف آئی اے کراچی زون کی جاری 2025 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر 1807 ویریفیکیشنز رجسٹر ہوئیں، جن میں سے 1518 کو نمٹا دیا گیا، 1992 انکوائریز درج کی گئیں جبکہ 2144 انکوائریز ڈسپوز کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے بتایا ہے کہ 2025 کے دوران جناح ٹرمینل ائیرپورٹ پرروزانہ اوسطاً 6982 مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت 561.
اعدادو شمار کے مطابق کراچی زون میں 115 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں اور عدالتوں کی جانب سے 169.5 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران 56.5 ملین روپے مالیت کی جعلی ادویات ضبط کی گئیں اور 79.49 ملین روپے مالیت کا نان کسٹم پیڈ سامان برآمد کیا گیا۔ حوالہ ہنڈی کے خلاف کریک ڈاؤن میں 757.8 ملین روپے مالیت کی مختلف کرنسیاں ضبط کی گئیں۔ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے 24.15 ارب روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرالی اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت 561.1 ملین روپے مالیت کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ اوسطاً 7 ہزار مسافر بیرون ملک روانہ ہوتے ہیں جبکہ روزانہ اوسطاً 6982 مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، 2025 کے دوران مجموعی طور پر 9947 مسافروں کو مختلف وجوہات پرآف لوڈ کیا گیا۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ 2025 میں 22 ہزار 438 ڈی پورٹیز پاکستان پہنچے، ڈی پورٹیزمیں سے 5 ہزار 952 افراد کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا، جعلی یا مشتبہ دستاویزات پر 111 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ ایف آئی اے نے 15 جعلی پاسپورٹس اور 66 جعلی ویزوں کی نشان دہی کی، جعلی پروٹیکٹر پر سفر کرنے والے 8 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ قوانین کی خلاف ورزی پر مختلف ایئرلائنز پر 27 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا، بھیک مانگنے میں ملوث 644 افراد کو آف لوڈ اور ڈی پورٹ کیا گیا اور اس ضمن میں 238 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملین روپے مالیت ایف آئی اے نے کراچی زون کے دوران کیا گیا کی گئیں
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان