ایف آئی اے کی 2025 میں کارروائیاں، 561.1 ملین مالیت کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے بتایا ہے کہ 2025 کے دوران جناح ٹرمینل ائیرپورٹ پرروزانہ اوسطاً 6982 مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت 561.1 ملین روپےمالیت کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد کی گئیں۔
ایف آئی اے کراچی زون کی جاری 2025 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر 1807 ویریفیکیشنزرجسٹر ہوئیں، جن میں سے 1518 کونمٹا دیا گیا، 1992 انکوائریز درج کی گئیں جبکہ 2144 انکوائریز ڈسپوز کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی زون میں 621 مقدمات درج ہوئے اور 624 مقدمات کے فائنل چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے اور مختلف کارروائیوں کے دوران 8 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
اعدادو شمار کے مطابق کراچی زون میں 115 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں اور عدالتوں کی جانب سے 169.
ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران 56.5 ملین روپے مالیت کی جعلی ادویات ضبط کی گئیں اور 79.49 ملین روپے مالیت کا نان کسٹم پیڈ سامان برآمد کیا گیا۔
حوالہ ہنڈی کےخلاف کریک ڈاؤن میں 757.8 ملین روپےمالیت کی مختلف کرنسیاں ضبط کی گئیں۔
ایف آئی اے نےکارروائی کرتے ہوئے 24.15 ارب روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرالی اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کےتحت 561.1 ملین روپےمالیت کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ اوسطاً 7 ہزار مسافر بیرون ملک روانہ ہوتے ہیں جبکہ روزانہ اوسطاً 6982 مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، 2025 کے دوران مجموعی طور پر 9947 مسافروں کو مختلف وجوہات پرآف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ 2025 میں 22 ہزار 438 ڈی پورٹیز پاکستان پہنچے، ڈی پورٹیزمیں سے 5 ہزار 952 افراد کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا، جعلی یا مشتبہ دستاویزات پر 111 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے نے 15 جعلی پاسپورٹس اور 66 جعلی ویزوں کی نشان دہی کی، جعلی پروٹیکٹر پر سفر کرنے والے 8 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ قوانین کی خلاف ورزی پر مختلف ایئرلائنز پر 27 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا، بھیک مانگنے میں ملوث 644 افراد کو آف لوڈ اور ڈی پورٹ کیا گیا اور اس ضمن میں 238 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے نے ملین روپے کے دوران کی گئیں کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔