تہران کے مرکزی بازار میں احتجاج، سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ہلاکتیں 36 ہو گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ایران کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف مظاہرین نے منگل کے روز تہران کے تاریخی گرینڈ بازار میں دھرنا دیا، جہاں بعد ازاں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے بعد پورا بازار بند ہو گیا۔
احتجاجی تحریک میں شدت، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہعالمی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ احتجاج اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک مزید طول پکڑ سکتی ہے۔ بیرون ملک سرگرم انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، اب تک ان مظاہروں کے دوران کم از کم 36 افراد ہلاک جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں مظاہرے: امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی
ریال کی تاریخی گراوٹ نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیامنگل کو ایرانی کرنسی ریال مزید گر کر 14 لاکھ 60 ہزار ریال فی ڈالر کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ 1979 کے انقلاب سے قبل ایک ڈالر تقریباً 70 ریال کے برابر تھا، جبکہ 2015 کے جوہری معاہدے کے وقت یہ شرح 32 ہزار ریال تھی۔
معاشی دباؤ میں مزید اضافہ متوقعایران کے مرکزی بینک نے حالیہ دنوں میں درآمد کنندگان اور پیداواری اداروں کے لیے دی جانے والی سبسڈی شدہ ڈالر ریٹ کو ختم کر دیا ہے، سوائے گندم اور ادویات کے۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑے گا۔
اشیائے خورونوش کی قیمتیں دگنی، دکانیں خالیسرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کھانے کا تیل دگنی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ پنیر اور مرغی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔ کئی علاقوں میں درآمد شدہ چاول دستیاب نہیں۔
تاجروں کو خدشہ ہے کہ کم قیمت پر فروخت نقصان کا باعث بنے گی، اسی لیے کئی دکانوں پر اشیاء غائب ہیں۔
صدر پیزشکیان کا اعتراف: حکومت کی بس سے باہر ہوتا بحراناصلاح پسند ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں اعتراف کیا کہ حکومت اکیلے اس بحران سے نہیں نمٹ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ حکومت اکیلے سب کچھ سنبھال لے گی، اس کی صلاحیت موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران میں بڑھتی مہنگائی اور احتجاج، حکومت کا الیکٹرونک سبسڈی دینے کا فیصلہ
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر حقیقت پسندانہ فیصلے ملک کو مزید بحران میں دھکیل سکتے ہیں۔
ایلام صوبے میں فائرنگ، تحقیقات کا حکمصدر پیزشکیان نے ایلام صوبے میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں سکیورٹی فورسز کو شہریوں پر فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔
اسی صوبے کے ایک اسپتال پر سکیورٹی فورسز کے چھاپے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر امریکی محکمہ خارجہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔
ایلام صوبہ، جہاں زیادہ تر کرد اور لُر نسل کے لوگ آباد ہیں، شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ وہاں 2 مظاہرین کے جنازے کے بعد مشتعل ہجوم نے 3 بینکوں کو نذر آتش کر دیا، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہوئیں۔
انسانی حقوق اداروں کی رپورٹامریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق 30 مظاہرین، 4 بچے، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ احتجاج ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں کے 280 سے زائد مقامات تک پھیل چکا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ، ایران کا سخت ردعملامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین کو ’بے رحمی سے قتل کیا‘ تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔
اس کے جواب میں ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔
یہ بیانات اس وقت مزید اہم ہو گئے جب حال ہی میں امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا، جو ایران کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران میں احتجاج تہران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران میں احتجاج تہران سکیورٹی فورسز ایران میں کے مطابق
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز