امریکا کا ویزا بانڈ پالیسی کا دائرہ مزید وسیع، وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
امریکا نے اپنی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت ویزا بانڈ پروگرام میں مزید توسیع کرتے ہوئے وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کر لیا ہے، جن کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کے لیے بھاری مالی ضمانت جمع کرانا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:H-1B لاٹری سسٹم ختم، امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے ممالک کی فہرست میں مزید 25 ریاستوں کا اضافہ کیا ہے، جن کے شہریوں سے امریکا کا بزنس یا سیاحتی ویزا حاصل کرنے کے لیے 5 ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کیا جا سکتا ہے۔
اس فہرست میں شامل زیادہ تر ممالک کا تعلق افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوبی ایشیا سے ہے، جبکہ مجموعی تعداد 38 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق نئے شامل کیے گئے ممالک پر یہ پالیسی 21 جنوری سے نافذ العمل ہو گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں شامل کسی بھی ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والے شہری، اگر بی ون یا بی ٹو ویزا کے لیے اہل قرار پاتے ہیں، تو انہیں ویزا انٹرویو کے وقت مقررہ رقم کا بانڈ جمع کرانا ہوگا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویزا بانڈ کی رقم کا تعین انٹرویو کے دوران کیا جائے گا اور درخواست گزاروں کو امریکی محکمہ خزانہ کے آن لائن ادائیگی کے نظام Pay.
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے امیر تارکین وطن کے لیے گولڈ کارڈ ویزا اسکیم متعارف کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینزویلا کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی کارروائی کے بعد نیویارک منتقل کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کو روکنا ہے جو سیاحتی یا کاروباری ویزے پر امریکا آ کر مقررہ مدت سے زائد قیام کرتے ہیں۔ یہ ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام گزشتہ سال اگست میں محدود ممالک کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے حوالے سے سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر ملک بدری، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی، اور تارکین وطن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ شامل ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے قانونی تقاضوں اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو رہی ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسیاں داخلی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ویزا امیگریشن پالیسی صدر ٹرمپ وینزویلا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ویزا امیگریشن پالیسی وینزویلا فہرست میں ویزا بانڈ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔