وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلیے اہم اقدامات کی ہدایات
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کو دور کرنے کیلیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات کے فروغ پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں برآمدات میں اضافے کے حوالے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں جولائی تا دسمبر 2025 تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کئے گئے جبکہ ہائی ویلیو سیکٹر، جیسا کہ انجینئرنگ، ادویات میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ، کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی برآمدات کو گلوبل ویلیو چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے جبکہ برآمد کنندگان کو سہولت دینے کے حوالے سے ملک میں پورٹس اور لاجسٹکس کے نظام کو بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات کے حوالے کئی ممالک سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔
وزیراعظم کی زراعت میں جدت کیلیے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحاً قرض فراہمی کی ہدایت
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلیے وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا
وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا کے ساتھ کل کوئٹہ جائیں گے
اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے برآمدات خصوصاً زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے جبکہ ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے کیا جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی۔
اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان م جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے حوالے سے شہباز شریف کی برآمدات میں اضافے نے کہا کہ کرنے کی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔