نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ، زرداری، نوازشریف،وزیراعظم کی مشاورت سے کمیٹی بنانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں صدر زرداری ، نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ، شیر افضل مروت ، بیرسٹر سیف ، عمران اسماعیل اور شہزاد وسیم شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پر بات ہوئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی بنائی جائیجو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کمیٹی کو بڑھائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر اعتماد بڑھیگا، میڈیا کی سنسرشپ ختم کی جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں۔ نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ ڈائیلاگ کمیٹی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔