data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر مشتمل ایک مذاکراتی کمیٹی بنائی جائے، جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کو آگے بڑھائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی پر مشتمل نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے بدھ کو اسلام آباد میں اجلاس کی میزبانی کی۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی شریک نہیں ہوا البتہ عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کے اختتام پر فواد چوہدری نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا، جس میں زور دیا کہ پاکستان اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، جن کا حل صرف سنجیدہ اور جامع مکالمے میں ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے، جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھائے۔

اعلامیہ کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ میڈیا کی سنسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے سیاسی کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا۔

اجلاس کے آغاز میں مقررین نے کہا کہ ملک میں استحکام کے سیاسی استحکام ضروری ہے اور اس کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے، ملک میں سیاسی تقسیم، سول ملٹری تعلقات میں تناؤ، دہشت گردی، انصاف کی عدم فراہمی، میڈیا پر قدغنیں اور غیر منصفانہ انتخابی عمل نے ریاست کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف