نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس آج، بڑی سیاسی جماعتوں کی شرکت متوقع
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت اہم کانفرنس آج اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا اور دانشوروں کی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس آج اسلام آباد میں ہوگی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔
تاہم تحریک تحفظ پاکستان نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رکن فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد ملک کو درپیش سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی جماعتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم سیاسی ایشوز پر تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
فواد چوہدری کے مطابق ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی فریضے کو ترجیح دی گئی ہے، تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر حل نکالا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔