ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت اہم کانفرنس آج اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا اور دانشوروں کی شرکت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس آج اسلام آباد میں ہوگی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

تاہم تحریک تحفظ پاکستان نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رکن فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد ملک کو درپیش سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی جماعتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم سیاسی ایشوز پر تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی فریضے کو ترجیح دی گئی ہے، تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر حل نکالا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ