ڈی جی آئی ایس پرآرکی پریس کانفرنس اشتعال انگیز ہے، افغان طالبان
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-10
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک ) افغانستان سے متعلقہ بیانات ذمے دار عسکری منصب کے تقاضوں سے متصادم ہیں،مذمت کرتے ہیں۔افغان طالبان نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیانات کو ’غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے پر کی گئی تنقید حقائق کے منافی ہے اور ایک ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے اور پاکستان کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف ’بے بنیاد پروپیگنڈے‘ کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو مضبوط سیکورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دھمکی آمیز زبان افغان عوام کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘امارت اسلامیہ نے پاکستان کے اداروں پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ رویہ اپنائیں اور سنجیدہ بیانات دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔