10 کروڑ روپے کے نوٹس کے بعد نعیم حنیف نے صبا قمر سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
معروف صحافی نعیم حنیف نے اداکارہ صبا قمر سے عوامی طور پر معافی مانگ لی ہے۔ یہ معافی 10 کروڑ روپے کے قانونی نوٹس کے بعد سامنے آئی۔
صحافی نے ایک پوڈکاسٹ کے دوران اداکارہ سے دل آزاری پر معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا کہ 3 نومبر کو ہم نے صبا قمر کے بارے میں ایک خبر شئیر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کی طرف سے تحفے میں دیے گئے گھر میں رہ رہی تھیں، جس کے ساتھ وہ مبینہ طور پر لائیو ان رشتہ میں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں اس خبر پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ غلط تھا اور حقیقت کے بالکل خلاف تھا۔ یہ خبر درست نہیں تھی۔ اس رپورٹ کی وجہ سے صبا قمر کی دل آزاری اور کردار کشی ہوئی اس لیے ہم ان سے معذرت خواہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صبا قمر سے متعلق سب سچ کہا، مزید حقائق بھی سامنے لاؤں گا، لیگل نوٹس پر صحافی کا جواب
واضح رہے کہ واضح رہے کہ نعیم حنیف نے صبا قمر کے کسی شخص کے ساتھ تعلقات کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ 2003 سے 2004 کے دوران لاہور کے والٹن روڈ پر اسی شخص کے فراہم کردہ مکان میں مقیم تھیں۔ نعیم حنیف نے مزید الزام لگایا کہ تعلقات ختم ہونے کے بعد یہ شخص اداکارہ کو ہراساں کرنے لگا اور صبا قمر متعلقہ معاملے کے لیے جنگ کے دفتر بھی گئی تھیں۔
صبا قمر نے ان تمام دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا اور قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے نعیم حنیف کو 10 کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ قانونی نوٹس کے بعد نعیم حنیف نے کہا تھا کہ انہوں نے کئی ایسی تنقیدوں کا سامنا کیا ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ صحافی نے واضح کیا کہ وقت آنے پر وہ مزید حقائق منظر عام پر لائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی اداکارہ پاکستانی ڈرامے صبا قمر نعیم حنیف نعیم حنیف معافی ویڈیو وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی اداکارہ پاکستانی ڈرامے نعیم حنیف نعیم حنیف معافی ویڈیو وائرل نعیم حنیف نے کے بعد
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔