محکمہ خزانہ پنجاب نےمحکمہ ہیلتھ کوبجٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
قیصرکھوکھر : محکمہ خزانہ پنجاب نے محکمہ صحت کے لیے بجٹ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں کو مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں تاکہ طبی سہولیات اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کو مجموعی طور پر 32 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جو تنخواہوں اور آپریشنل اخراجات کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس کے بلوں اور پٹرول کی مد میں استعمال ہوں گے۔
اسی طرح محکمہ ہیلتھ اور آبادی کے لیے 1 ارب 40 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنخواہوں کے لیے بھی بجٹ فراہم کر دیا گیا ہے۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
محکمہ خزانہ نے پنجاب ہیلتھ فیسلٹی مینجمنٹ کمپنی کے لیے 30 کروڑ روپے بھی جاری کیے ہیں۔ حکام کے مطابق جاری کردہ تمام بجٹ کی تفصیلات آن لائن بھی فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔