راولپنڈی؛ میونسپل کارپوریشن کا آئیسکو سے ایک ارب روپے بقایا جات کا مطالبہ، 15 دن کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
راولپنڈی میں میونسپل کارپوریشن نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) سے 65 سال سے بغیر کرایہ استعمال ہونے والی کمرشل پراپرٹیز کے بقایا جات کی وصولی کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
میونسپل کارپوریشن نے آئیسکو کو 15 دن کے اندر ایک ارب روپے بقایا جات ادا کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے مطابق آئیسکو کے راولپنڈی میں دفاتر، افسران کے فلیٹس، کمپلینٹ دفاتر اور ایک پٹرول پمپ سمیت مجموعی طور پر 11 میونسپل کمرشل پراپرٹیز یکم جنوری 1961 سے 30 نومبر 2025 تک بغیر کسی رینٹ ایگریمنٹ کے استعمال میں رہیں۔ ان پراپرٹیز کا کرایہ کبھی ادا نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیںسالانہ کروڑوں روپے کمانے والے بیوٹی کلینکس کی بڑی تعداد ٹیکس نادہندہ نکلی
ڈسٹرکٹ رینٹ اسسمنٹ کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کی مشترکہ اسسمنٹ کمیٹی نے واجبات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک ارب روپے بقایا جات کا تعین کیا۔ کمشنر راولپنڈی و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کی ہدایت پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن عمران علی نے آئیسکو سے واجبات کی وصولی کے لیے باقاعدہ لیٹر جاری کیا ہے۔
چیف آفیسر عمران علی کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کی روشنی میں چیف ایگزیکٹو آئیسکو کو ایک ارب روپے 15 دن کے اندر ادا کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں بقایا جات ادا نہ کیے گئے تو آئندہ قانونی کارروائی کا اختیار محفوظ رکھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میونسپل کارپوریشن ایک ارب روپے بقایا جات ا ئیسکو
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔