پاکستان خطے میں فائیو جی کے اجرا میں پیچھے، اسپیکٹرم کی شدید کمی بڑی رکاوٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان خطے کے تقریباً تمام ممالک کے مقابلے میں فائیو جی سروسز کے اجرا میں پیچھے رہ گیا ہے، جہاں دنیا میں یہ ٹیکنالوجی 2019 سے متعارف ہو چکی ہے مگر پاکستان اب تک اس سے محروم ہے۔
افغانستان کے سوا خطے کا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں فائیو جی پر کام شروع نہ ہو سکا ہو۔
پی ٹی اے ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز موبائل اسپیکٹرم موجود ہے جو خطے میں سب سے کم ہے، یہی وجہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے جہاں 20 کروڑ سے زائد براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں، مگر اس کے باوجود جدید نیٹ ورک سہولیات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق اسپیکٹرم ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوتا ہے جسے ٹو جی سے لے کر فائیو جی اور آئندہ آنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم محدود اسپیکٹرم اور فائیو جی ڈیوائسز کی کمی کے باعث پیش رفت سست ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی صرف اسمارٹ فونز تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے انٹرنیٹ آف تھنگز، اسمارٹ سٹیز اور صنعتی شعبے میں بھی جدید سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائیو جی
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔