اورنگی ٹاؤن میں گھر سے خاتون کی پھندا لگی لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اورنگی ٹاؤن گلشن بہارمیں گھرسے خاتون کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے واقعے کوخودکشی کا شاخسانہ قرار دیکر واقعے کی تفتیش شروع کردی۔
پاکستان بازارتھانے کے علاقےاورنگی ٹاؤن گلشن بہارمارکیٹ گلی نمبر 8 کے قریب گھرسے خاتون کی پھندا لگی لاش ملی، خاتون کی لاش قانونی کارروائی کے لیےعباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں متوفیہ خاتون کی شناخت 35 سالہ شاہین زوجہ شاہین زوجہ شنوارکے نام سے کی گئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پرپولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اورپولیس نے جانے وقوع سےشواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کرلیا۔
ایس ایچ او پاکستان بازارامام بخش لاشاری نے بتایا کہ متوفیہ خاتون 2 بیٹوں کی ماں تھی جن کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان ہیں اوردونوں بیٹے حافظ قران ہیں۔
انھون نے بتایا کہ متوفیہ کے سسر کا کہنا ہے کہ بہوبیمار اور ذہنی مریضہ تھی۔ بہو کا روحانی اورذہنی علاج بھی چل رہا تھا۔ بہو اپنے شوہر کے ساتھ سو رہی تھی اچانک اٹھ کر گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔
شوہر لاش لیکر عباسی شہید اسپتال روانہ ہو گیا ہے،پولیس واقعے کے حوالے سے مزید جانچ کررہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔