پی ڈبلیو ڈی کے 2800 سے زائد ملازمین کن سرکاری محکموں میں ایڈجسٹ کیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
حکومت نے گزشتہ سال پاک پی ڈبلیو ڈی ادارے کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد ملازمین نے بھرپور احتجاج کیا اور اپنی نوکری کو بچانے کے لیے احتجاج کیے، اب انکشاف ہوا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے 2800 سے زائد ملازمین کو مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں اور ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے 1,493 ملازمین سی ڈی اے، 970 اسٹیٹ آفس، 95 وزارت دفاع، ایک وفاقی شرعی عدالت، 60 وزارت خارجہ، 116 ایف بی آر، 35 نیب اور 90 کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر قریباً 2,860 ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں، جبکہ 173 ملازمین کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری زیر غور ہے اور 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی سی ڈی اے پر برہم، سیکریٹری داخلہ کو بھی طلب کرلیا
اجلاس کے دوران پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے مینٹیننس اسٹاف کے ملازمین کو یکم جولائی 2025 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی، جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کر کے واضح اور مستند رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجے چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جنہیں اے جی پی آر اور ٹی آفس لاہور منتقل تو کیا گیا مگر گزشتہ 6 ماہ سے نہ تو ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل اور تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت کر دی ۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مری نے زمین کی میوٹیشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو باضابطہ درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: سی ڈی اے مزدور یونین کے ملازمین کی پروموشن کردی گئی
چونکہ اسٹیٹ آفس کو زمین کی صرف نگرانی (واچ اینڈ وارڈ) کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس لیے معاملہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ میوٹیشن وفاقی حکومت یا وزارت کے نام کی جائے۔
مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے سول کورٹ راولپنڈی کو خط لکھ کر زیر التوا مقدمات کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفافیت اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو جلد از جلد پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2800 سے زائد ملازمین پی ڈبلیو ڈی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 2800 سے زائد ملازمین پی ڈبلیو ڈی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ہاؤسنگ اینڈ ورکس پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو ملازمین کی کی ادائیگی کی ہدایت ہدایت کی کمیٹی کو کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔