data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-01-3
اسلام آباد:سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ’’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘‘کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسپیکر سردار ایاز صادق کو گرین سگنل دے دیا ہے جب کہ حکومتی وفد اسپیکر کی درخواست پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے۔ غیر منتخب نمائندوں
سے بات چیت نہیں کریں گے۔ دنیا نیوزکے ذرائع کے مطابق اسپیکر آفس کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا۔سردار ایاز صادق نے ابھی تک پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رضا مند ہوئی تو فوری طور پر اسپیکر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔اس حوالے سے پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کی پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ اسپیکر نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے اسپیکر سے آخری ملاقات محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے کی تھی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہو سکا، ہمارے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حق میں ہیں، ملک کو بہتر انداز میں چلانے کیلیے مذاکرات ضروری ہیں، پی ٹی آئی ا سپیکر کے چیمبر میں آئے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ ا سپیکر نے حل کرنا ہے، کوئی معاملہ ایسا نہیں جو مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہو، مذاکرات کیلیے تحریک انصاف کو سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف خود کنفیوژن کا شکار ہے، پی ٹی آئی کے دو دھڑے الگ الگ باتیں کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا ہے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد اعوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلا اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں۔ فواد چودھری نے استقالیہ کلمات میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈا اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر عمران اسماعیل، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، بیرسٹر سیف، محمود مولوی، سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد، بانی پی ٹی آئی کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی، شاہد خاقان عباسی، جنرل (ر) نعیم لودھی، فیصل چودھری، وسیم اختر، شیر افضل مروت اور دیگر نے شرکت کی۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں انتشار ہوگا تو ملک ترقی نہیں کرے گا، سیاسی استحکام کیلیے سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔قومی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک نہیں چل رہا، ملک کو چلانے کے لیے راستہ ڈھونڈنا ہوگا، حل تب نکلے گا جب سب اکٹھے بیٹھیں گے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مسئلہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں، ملک کی رہائی کا مسئلہ ہے، حالات اتنے خراب ہیں لوگ خود ہی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاست دان، جوڈیشری، اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کو بیٹھنا پڑے گا، ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے، اس طرح ملک نہیں چلتے۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ملک کے معاملات درست ہوں گے تو معیشت چلے گی اور بانی کو بھی انصاف ملے گا، بیٹھ کر خرابیوں کو درست کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے، ہمیں ایک دوسرے کو غداری کا لیبل لگانے کے بجائے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہوگا ،دعا ہے اس کا کوئی حل نکل آئے۔ علینہ شگری نے کہا کہ مکالمے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔بیرسٹر سیف علی خان نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک میں تقسیم ہے اعتماد کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک بداعتمادی یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نکل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کریں گے اس لیے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں، سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون رشید نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ نے فوجی آمروں کو خوش آمدید کہا، جب جب مارشل لاء لگا سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا، سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونا پڑے گا، سیاست دانوں کو خود مضبوط ہونا چاہیے، اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا، بانی چیئرمین عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ صرف بانی چیئرمین کی رہائی کا نہیں ہے، 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات پر عمل درآمد کون کروائے گا؟شیر افضل نے مزید کہا کہ میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا ہوں، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چودھری سے کیا مسئلہ ہے؟رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔فواد چودھری نے کمیٹی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا کہ ارکان متفق ہیں کہ مذاکرات کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنائی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور صدر مملکت بنائیں جب کہ اپوزیشن کی کمیٹی کی تشکیل کیلیے قیدیوں سے ملاقات کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی سینسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہوگا۔
وزیر اعظم گرین سگنل

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان مذاکرات شاہد خاقان عباسی کہ تحریک انصاف مذاکرات کے لیے بانی پی ٹی ا ئی نیشنل ڈائیلاگ ڈائیلاگ کمیٹی اپوزیشن لیڈر پی ٹی ا ئی کے کانفرنس میں حکومت اور چودھری نے نے کہا کہ کی رہائی ملک میں کا کہنا بات چیت کہ ملک

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد